تیسری عالمی جنگ کی پانچ چنگاریاں

IMG_20260830_105404_810.jpg

IMG_20260830_105404_810.jpg

 

تحریر: برٹ اسٹیفنز (کالم نگار نیویارک ٹائمز)

تیسری عالمی جنگ کا آغاز، دوسری عالمی جنگ کی مانند ایک بڑے دھماکے سے نہیں بلکہ علاقائی تنازعات کی تعداد میں اضافے سے ہو گا جو ایک مرحلہ وار عمل ہے۔ اس وقت تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ آغاز کے لیے پانچ چنگاریاں روشن ہو چکی ہیں۔ دنیا گذشتہ چند سالوں سے مختلف قسم کے تنازعات اور جنگوں سے روبرو ہے جن میں یوکرین جنگ، تائیوان سے متعلق چین کی ملکیت کا دعوی، ایران کے خلاف جنگ اور شمالی کوریا میں انجام پانے والی فوجی سرگرمیوں سے لے کر مغرب میں انتشار، فوجی تیاری کا نہ ہونا اور تمام ممالک کا اقتصادی بحران کے دہانے پر واقع ہونا شامل ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا جنگ شروع ہو چکی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ حتمی طوفان شروع ہونے میں کتنا وقت رہ گیا ہے؟ میرے استدلال کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کی وجوہات پر استوار ہے۔ یہ جنگ یکم ستمبر 1939ء کے روز جرمنی کی جانب سے پولینڈ پر انجام پانے والے حملے سے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ ان علاقائی تنازعات اور جنگوں کے ایک ساتھ جمع ہو جانے کا نتیجہ تھی جو جاپان کی جانب سے 1931ء میں چین کے علاقے مینچوری پر حملے سے شروع ہوئے اور دھیرے دھیرے ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ آمرانہ حکومتوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات نیز تفرقوں اور اختلافات کا شکار جمہوریتوں نے اس صورتحال کو مزید ہوا دی اور اس کے نتیجے میں المناک سانحہ رونما ہوا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے اور فوجی حربوں میں برپا ہونے والے انقلاب نے بھی آمرانہ حکومتوں کو فوجی جارحیت کی ترغیب دلائی اور وہ اپنی فوجی برتری کے نشے میں ڈوب گئے۔

یوکرین جنگ اور مشرق وسطی میں جاری فوجی ٹکراو آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ روس نے اپنی دھمکیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے مولداویہ، پولینڈ اور جرمنی کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے خلاف جنگ کی ہے اور یہ جنگ حزب اللہ لبنان، انصاراللہ یمن اور ایران تک پھیل گئی ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطی میں فضائی دفاعی میزائلوں کی کھپت نے یوکرین کو ان میزائلوں کی کمی سے روبرو کر دیا ہے۔ روس، چین، شمالی کوریا اور ایران نے آپس میں مل کر فوجی اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔ شمالی کوریا روس کو اسلحہ اور فوجی فراہم کر رہا ہے جبکہ چین ڈرون طیاروں کے الیکٹرانک آلات مہیا کرتا ہے۔ روس ایران کو حساس معلومات بھی فراہم کر رہا ہے اور اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو روس اپنی آبدوزوں کے ذریعے اس کی مدد کر سکتا ہے۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے یورپی اتحادی ممالک میں شدید اختلافات رونما ہو چکے ہیں۔ کینیڈا پر عائد کیے گئے نامعقول ٹیکسز، کینیڈا کی کمزور دفاعی صلاحیتیں اور چین کے ساتھ اس کا اسٹریٹجک تعاون مغرب میں شدید انتشار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹرمپ اپنے اتحادیوں کی کمزوری سے گلہ مند ہے۔ دوسری طرف اس کے اتحادی ٹرمپ کی سینہ زوری، یکہ تازی، نامعقول رویے، جھوٹے بیانات اور نالائقی سے نالاں ہیں۔ دونوں کی بات درست ہے۔ امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر نئے ٹیکس عائد کرنا اس کا واضح ثبوت ہے کیونکہ یہ اقدام سیاسی لحاظ سے نامعقول، اقتصادی لحاظ سے خود کو نقصان پہنچانے والا اور اسٹریٹجک لحاظ سے کمزور ہے۔

ایران کے خلاف جارحانہ جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ جانی اور مالی نقصان برداشت نہیں کر سکتا اور اس کمزوری نے ایران کو میدان جنگ میں برتری فراہم کر دی ہے۔ یوکرین جنگ نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کے جدید ترین ہتھیار بھی مصنوعی ذہانت پر مشتمل ڈرون طیاروں کے مقابلے میں ناکارہ ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ نے یوکرین کو جو ٹینک فراہم کیے تھے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ امریکی وزیر جنگ پٹ ہیگسٹ نے اچانک ہی ڈرون یونٹ ختم کر دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ کی بحریہ چھوٹی ہے اور کشتی سازی کی صنعت بھی پرانی ہو چکی ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی جانب سے فوجی بجٹ کی درخواست کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نہ صرف اسلحہ کی کمی عیاں کر دی ہے بلکہ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ امریکہ فوجیوں کے جانی نقصان کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک اور مسئلہ عالمی معیشت کی صورتحال ہے جو ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے بعد مزید بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ہم نے 1930ء کے عشرے میں عظیم اقتصادی بحران کا مشاہدہ کیا تھا لیکن اب بھی ایسے ہی خطرات ہمارے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ جاپان میں ین کا بحران اور امریکی پرائز بانڈز کی ممکنہ فروخت، امریکہ پر چڑھا 40 کھرب ڈالر کا قرضہ اور مصنوعی ذہانت کے غبارے سے ہوا نکلنے کا خطرہ موجود ہے۔ اقتصادی دباو کے دوران جمہوریتیں خطرے سے دور جبکہ آمرانہ حکومتیں خطرے کی جانب جاتی ہیں اور یہ چیز بھی ٹکراو کی شدت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ ایسے حالات کے تناظر میں مغربی دنیا پوری بے توجہی سے ایک طوفان کی جانب گامزن ہے اور یہ تمام عناصر مل کر عالمی جنگ شروع ہونے کا امکان بڑھا دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے