سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا ہر اقدام ممنوع : رہبر انقلاب اسلامی

173071473

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے ملک میں سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے ہرقسم کے اقدامات کو ممنوع قرار دیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ حکومت کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں حکومت بالخصوص سچے اور عوام کا درد رکھنے والے صدر کے مناسب اقدامات کی قدردانی کرتے ہوئے، جو امریکی۔صیہونی دشمن کی جانب سے پیدا کردہ تمام تر مشکلات، مختلف سازشوں، پابندیوں اور محاصروں میں شدت کے باوجود انجام دیے گئے ہیں، ایران کی قوت و طاقت کی تشریح اور اسے نمایاں کرنے نیز ہر طرح کی مایوس کن اور قومی و عمومی عزم کو کمزور کرنے والی باتوں اور فرضی اختلاف پیدا کرنے سے پرہیز کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ میں واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا ہر کام ممنوع ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کی آفیشل ویب سائیٹ کے حوالے سے ارنا کی رپورٹ کے مطابق رہبر  آيت اللہ مجتبی خامنہ ای کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

ہرسال شہریور کا پہلا (اگست کا آخری) ہفتہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت کی خدمات پر بات کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ اس سال اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت کے لیے باعث فخر ہے کہ ہفتۂ حکومت، ربیع الاول میں پیدا ہونے والے دو معصوموں صلوات اللہ و سلامہ علیھما و آلہما کی ولادت باسعادت کے ایام میں پڑا ہے۔

اس موقع پر میں حکومتی اداروں کے تمام سرگرم کارکنوں اور منتظمین بالخصوص چودھویں حکومت کے صادق اور عوام کا درد رکھنے والے صدر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ خاص طور پر ان مناسب اور قابل قدر اقدامات کے پیش نظر جو انھوں نے امریکی۔صیہونی دشمن کی جانب سے پیدا کردہ تمام تر مشکلات، مختلف سازشوں، پابندیوں اور محاصروں میں شدت کے باوجود، تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد عوام کی ضرورت کی اہم اشیاء اور مختلف خدمات کی فراہمی، اہم متاثرہ مقامات کی مرمت و بحالی اور توانائی کے مینجمنٹ کے سلسلے میں انجام دیے ہیں۔ اسی طرح شہید سربراہان مملکت رجائی اور رئیسی اور شہید وزیر اعظم باہنر اور حکومت کے مختلف ادوار میں شہید ہونے والے کارکنوں، منتظمین اور وزراء اور ان میں سرفہرست عظیم الشان رہبر شہید کو بھی، جو قریب دو دور تک صدر کے عہدے پر فائز رہے، یاد کرنا اور خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے اور سب کے لیے بلند درجات اور الہی عنایات کی دعا کرنی چاہیے۔

عوام کی خدمت اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے مقاصد کے لیے کام کرنے کا موقع ایک گراں قدر نعمت ہے جس کی قدر کرنی چاہیے۔ موجودہ دور اور ان نازک و پیچیدہ حالات میں، جن کا سامنا مضبوط سے مضبوط تر ایران کے ڈھانچے کو ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے شب و روز کی مسلسل محنت اور مستقل جدت طرازی کے علاوہ ایک ضروری امر ایران اور اس کی عزیز قوم کی طاقت و قوت کی تشریح اور اسے نمایاں کرنا ہے۔ کمزوری، نقص اور کمی کو بیان کرنے اور نمایاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسئلے کو رفع اور حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور اقدام کی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی ایسے وقت میں اپنی کمزوریوں کا سچائی کے ساتھ بیان، جب دشمن کو حوصلے کی ضرورت ہو، اس کی بہت بڑی مدد ہو اور شاید دوستوں اور ساتھ دینے والوں کے دلوں میں تشویش پیدا کرکے انھیں سرگرداں اور پریشان کر دے۔ ہاں، جب ان سچی باتوں کے سننے والے صرف ہمارے عوام اور خیرخواہ ہوں تو یہ مشکل کچھ کم ہو جاتی ہے۔ لیکن طاقت و قوت اور مثبت پہلو، قرآن کی تعلیم "و امّا بِنِعمَۃ ربِّکَ فَحَدِّث” (اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیجیے) کے بموجب بیان، تشریح اور نمایاں کیے جانے کے متقاضی ہیں۔

ایران کے عزیز عوام، جنھوں نے گزشتہ چھے ماہ کے دوران دشمن کے خلاف جہاد، میدانوں میں موجودگی، اتحاد، ہم دلی اور تعاون کی مختلف صورتوں میں اپنی حقیقی قدر و قیمت کا مظاہرہ کیا ہے، اس بات کے مستحق ہیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران میں فورسز اور ذمہ دار اداروں کی خدمت کو محسوس کریں کہ وہ اس مقدس نظام کے مطلوبہ معیار اور اس مبعوث شدہ عظیم قوم کے شایان شان مقام تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔

یقیناً ذیل میں جن امور کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ خدمت گزار حکومت کے پروگراموں کے مرکز میں یا کسی نہ کسی صورت میں اس کے اہداف کی فہرست میں شامل ہیں اور یہاں ان کا ذکر محض یاد دہانی کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ ان میں اقتصادی و معاشی چیلنجوں کے سلسلے پر سنجیدہ توجہ دینا شامل ہے، جیسے مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں اور اشیاء و خدمات کی منڈی کا مینجمنٹ، نیز معیشت کے بعض دیگر عناصر، جیسے سرمایہ کاری میں اضافہ اور اسے مفید اور ضروری شعبوں کی جانب گامزن کرنا، پیداوار کو فروغ دینا، ڈالر کے کردار کو تدریجی طور پر ختم کرنا اور آخر میں مزاحمتی معیشت کی تمام پالیسیوں کو محور بنانا۔ اس سلسلے میں ان تمام امور کے حل کی بنیادی کنجی زیادہ سے زیادہ ملکی پیداوار میں مضمر ہے۔ البتہ عمومی اور مہارت والی اشیاء کی مناسب مقدار میں دستیابی خود ایک قطعی ضرورت ہے، اس لیے جہاں ملکی پیداوار لازمی مقدار میں موجود نہ ہو، وہاں درست اور دانشمندانہ طریقے سے درآمدات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ فطری طور پر ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور اس کے ساتھ درآمدات اور قیمتوں کا مینجمنٹ ایسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے کہ ملکی معیشت کے صفحے پر نمایاں ہونے والے دھبے بتدریج چھوٹے سے چھوٹے ہوتے جائیں، یہاں تک کہ پوری طرح سے مٹ جائیں۔ اس میدان میں اگرچہ جنگ اور اس کے بعد دشمن کا رویہ بے اثر نہیں ہے لیکن اس شعبے کے مختلف اجزا کا زیادہ سے زیادہ اسمارٹ مینجمنٹ، بعض امور میں عوام اور بعض دیگر امور میں ماہرین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے مدد لینا اور نئی صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنا کر بروئے کار لانا، ملک کو امور کی توسیع اور خوش حالی کی جانب بڑھائے گا۔ اس قوم کا کٹّر دشمن یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ خوش حالی اور ترقی کا راستہ اس کی اور اس کے ناجائز مطالبات کی پیروی ہے، جبکہ اس نے ماضی کے مختلف ادوار، یہاں تک کہ اسلامی انقلاب سے کئی سال پہلے بھی، اس ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اسے دیکھنے سے بالکل الٹی حقیقت سامنے آتی ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ اور موضوع نوجوان ماہرین کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجیز اور ایجادات کو بروئے کار لانا ہے۔ کبھی کسی معاملے میں اس سہولت سے بروقت استفادہ اور معمول کے طریقۂ کار اور رائج عادات کو ترک کرنا، ملک کی ترقی اور پیشرفت کی راہ میں مؤثر جست ثابت ہو سکتا ہے۔ اس چیز کا تصور طاقت پیدا کرنے کے تمام شعبوں، منجملہ زراعت، صنعت، ثقافت و تربیت، مواصلاتی یا سماجی امور میں کیا جا سکتا ہے۔

ملک کے ان بنیادی مسائل میں سے ایک اور مسئلہ، جنھیں ہمیشہ حکومت، حکومتی اہلکاروں، تمام ذمہ داران اور حکومتی اداروں کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے، اتحاد کی پاسداری اور سماجی یکجہتی کی حفاظت ہے۔ ثقافتی، سماجی، سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی، ہر بڑے شعبے میں کوئی بھی اقدام سماجی یکجہتی سے متعلق اس ‘اٹیچمنٹ’ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ بعض اقدامات، جن کے ممکنہ طور پر ملک کے بعض طبقوں میں حامی بھی ہوں، اگر ان میں یہ ‘اٹیچمنٹ’ موجود نہ ہو یا جس چیز کو اٹیچمنٹ کے طور پر مرتب کیا گیا ہو، عملی طور پر اسے نظر انداز کر دیا جائے تو وہ ان ہی طبقات اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بلاشبہ ہر طرح کی مایوس کن اور قومی و عمومی عزم کو کمزور کرنے والی بات اور فرضی اختلاف پیدا کرنا، جیسے جنگ یا مذاکرات، وفاق یا انتہا پسندی، سمجھوتہ یا جنگ پسندی، جنھوں نے ماضی میں ہمارے عزیز عوام کو براہ راست یا بالواسطہ نقصانات پہنچائے ہیں، آئندہ بھی وہی اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا میں واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا ہر کام ممنوع ہے۔

اہم مسائل میں سے ایک اور مسئلہ ثقافت، تعلیم اور تربیت کے معاملے پر حد سے زیادہ توجہ دینا ہے۔ حد سے زیادہ توجہ سے مراد یہ ہے کہ دیگر اسٹریٹیجیز کی ترتیب اس مسئلے کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔ اس سلسلے میں ان طبقوں پر خصوصی توجہ دینا بہت اہم ہے جو مثبت اور تعمیری ثقافت کے فروغ کا ذریعہ ہیں، جیسے اسکولوں، یونیورسٹیوں اور حوزہ ہائے علمیہ کے اساتذہ، نیز وہ نرسز اور ڈاکٹر جو سرکاری اداروں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے خود کو وقف کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ان گھریلو خواتین کے کردار پر توجہ بھی اتنی ہی اہم ہے جو گھروں کی حدود میں اس سرزمین کے ایک ایک بچے کو خوب صورت اور مستقبل کی مطلوبہ ثقافت کے نقش و نگار کے انتہائی لطیف اجزا ایک ایک کرکے سکھاتی ہیں۔

امید ہے کہ ان امور اور دیگر تمام مفید باتوں پر عمل درآمد، جو بحمد اللہ حکومت کے پروگراموں کی فہرست میں دیکھے جا سکتے ہیں، ہمارے عزیز ملک کو مضبوط سے مضبوط تر ایران کے ہدف کی جانب لے جائے گا اور اس راستے پر سرگرم افراد کو ہمارے آقا و مولا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی عنایات اور ان کی خیر و برکت و ہدایت کی دعا کا مستحق بنائے گا۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

28 اگست 2026

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے