غداروں کی شاہرگ پر یمنیوں کا خنجر
تحریر: محمد علی
یمن کی مسلح افواج نے 20 جولائی 2026ء کے دن ایک سرکاری بیانیہ جاری کیا جس میں آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یمن نے اسے "ناکہ بندی کے مقابلے میں ناکہ بندی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام جمعہ کے روز یمن کے دارالحکومت صنعاء میں منعقد ہونے والے اس ملین مارچ کی روشنی میں کیا گیا ہے جس میں کروڑوں یمنی شہریوں نے سعودی عرب کی جانب سے گذشتہ 12 سال سے جاری یمن کے خلاف ظالمانہ محاصرے کا موثر انداز میں جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کی ایما پر گذشتہ بارہ سال سے یمن کا سمندری، زمینی اور فضائی محاصرہ کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں یمنی عوام کی اکثریت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے اپنے بیانیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یمنی قوم کو ہر قسم کی جارحیت اور دشمنی کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کا پورا قانونی حق حاصل ہے اور سعودی عرب کے خلاف حالیہ اقدامات اسی قانونی حق کے تحت انجام پا رہے ہیں۔ یمن نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے کسی قسم کی مہم جوئی کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یمن کی مسلح افواج نے اپنے بیانیے میں یمنی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا جو ہمیشہ سے میدان میں حاضر ہیں اور ملک اور فوج کی حمایت میں ملین مارچ منعقد کرتے رہتے ہیں۔
اخبار "الاخبار” نے اقتصادی ماہرین کے بقول لکھا ہے کہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کے اس ملک کی معیشت پر بہت زیادہ گہرے اثرات ظاہر ہوں گے۔ ان کے بقول یمن کا یہ اقدام جنگ کا توازن تبدیل کر دے گا اور اس کا پلڑا یمن کے حق میں وزنی ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کا یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے الحدیدہ بندرگاہ اور یمن کی دیگر بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے میں بہت موثر ثابت ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ سعودی حکمران اس اقدام پر شدید تشویش کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے بقول یمن کی جانب سے سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی اس کی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتی ہے۔ مختلف ذرائع کی نظر میں سعودی عرب اس ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہوں خاص طور پر جدہ کی بندرگاہ کی موثر انداز میں ناکہ بندی بہت نقصان دہ ثابت ہو گی کیونکہ سعودی عرب کی کل برآمدات کا 65 فیصد حصہ ان بندرگاہوں سے آتا ہے اور ان کی ناکہ بندی ریاض کی تجارت مفلوج کر دے گی۔ یاد رہے سالانہ 108 ملین ٹن کے اثاثے ان بندرگاہوں سے ملک میں برآمد ہوتے ہیں۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کا 22 فیصد حصہ بھی انہیں بندرگاہوں سے آتا ہے اور یوں یہ ناکہ بندی بہت کم مدت میں سعودی عرب کو شدید بحرانی صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔
جہاں تک انرجی کے شعبے کا تعلق ہے روزانہ 50 سے 70 لاکھ بیرل خام تیل، پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع اسٹریٹجک بندرگاہ "ینبع” بھیجا جاتا ہے جہاں سے دنیا کے مختلف حصوں میں ارسال ہوتا ہے۔ یمن کی جانب سے حالیہ ناکہ بندی کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی برآمدات بھی شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب کی کل آمدن کا 73 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح وژن 2030 جیسے میگا پراجیکٹس بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ انصاراللہ یمن کے سیاسی رہنما حزام الاسد نے مسلح افواج کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: "ہمارے پاس اپنے خلاف ناکہ بندی ختم کروانے کے لیے بہت زیادہ طریقے موجود ہیں جن میں سے ایک سعودی عرب کے خلاف ناکہ بندی کا آغاز ہے۔ اگر ہمارے خلاف ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو یمن کی مسلح افواج وسیع جنگ کی جانب آگے بڑھیں گے۔ ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ یا بھوک سے مر جائیں یا طاقت کے بل بوتے پر اپنا حق حاصل کر لیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ سعودی عرب اپنا تیل بیچتا رہے اور اس سے یمن کی ناکہ بندی کرنے اور اس پر حملے کرنے کے لیے اسلحہ خریدتا رہے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں۔” اسی طرح انصاراللہ یمن کے ایک اور رہنما عبداللہ النعمی نے کہا: "امریکہ کبھی بھی بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی نہیں کرتا۔ ہم نے اپنا محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر کسی نے رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔”
انصاراللہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی محض ایک علاقائی سطح کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے اس ناکہ بندی کا جواب ہے جو امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ یہ اقدام درحقیقت امریکہ کی فوجی اور اقتصادی جارحیت کے خلاف ایران سے حمایت کا اعلان ہے۔ انصاراللہ یمن نے اس سمندری ناکہ بندی کے ذریعے خلیج فارس کی آب راہوں کو اسلامی مزاحمت کے حق میں ایک جیوپولیٹیکل ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور مغربی محاذ کی جانب سے ایران پر یکطرفہ دباو کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے ہاتھ خالی نہیں ہیں۔ آبنائے باب المندب کی بندش درحقیقت اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے ایک جوابی ردعمل ہے جس کا مقصد امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے اتحادیوں کو اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف جارحانہ اقدامات انجام دینے سے روکنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے امریکہ اور سینٹکام کو یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف جارحانہ رویہ اور پالیسیاں جاری رکھیں تو آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ آبنائے باب المندب بھی انرجی کی عالمی تجارت کے لیے بند کر دیا جائے گا جس کی امریکہ اور مغربی ممالک کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
