لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں رہبر انقلاب کی نماز جنازہ
آج تہران میں شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں لاکھوں سوگوار شریک ہوئے۔
تہران کی مصلائے امام خمینی میں آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید رہبر انقلاب اور ان کے اہل خانہ کے اجساد مطہر کی نماز جنازہ کی امامت کی۔
آیت اللہ جفعر سبحانی نے شہید رہبر انقلاب اور آپ کے خاندان کے چار شہیدوں ( شہید رہبر کی بیٹی بشری خامنہ ای، سیدہ ہدی خامنہ کے شریک حیات، مصباح الہدی باقری کنی، شہید رہبر کی بہو، شہید زہرا حداد عادل اور آپ کی نواسی شہید زہرا محمدی گلپائگانی) کی تین نمازجنازہ پڑھائی۔
تہران کے "امام خمینی مصلیٰ” نامی وسیع و عریض جامع کمپلیکس میں آج صبح آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید رہبر کے خاندان کے چار دیگر شہیدوں بیٹی، داماد، بہو اور آپ کی نواسی کی بھی نماز جنازہ پڑھائی۔
آیت اللہ جعفر سبحانی کی تشریف آوری کے بعد شہید رہبر انقلاب اور آپ کے خاندان کے چار شہیدوں کے تابوت لائے گئے، ان میں ایک چھوٹا سا تابوت بھی تھا جو شہید رہبر کی 14 ماہ کی نواسی کا تھا۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ محسنی اژہ ای، پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر قالیباف، ممتاز دانشور اور سیاستداں غلام علی حداد عادل، صادق لاریجانی، شہید رہبر کے دفتر کے سربراہ محمدی گلپائگانی، علی باقری، شہید رہبر کے بیٹے، مصطفی خامنہ ای، مسعود خامنہ ای اور میثم خامنہ ای، پہلی صف میں شامل تھے
نماز جنازہ سے پہلے شہید امام خامنہ ای کو فوجی سلامی دی گئی اور عوام نے فوجی سلامی کے ساتھ ایران کا قومی ترانہ پڑھا۔
مصلائے امام خمینی میں کل صبح سے شہری شہید امام خامنہ ای کی الوداعی تقریبات جاری ہیں۔ کئی ملین افراد الوداعی تقریب میں شریک ہیں جبکہ مختلف ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ الوداعی تقریبات اور تشییع جنازہ میں شرکت کے لیے ایران آرہے ہیں۔