سوڈان ایئرپورٹ حملے میں بھی متحدہ عرب امارات ملوث

2.jpg

2.jpg

سوڈانی وزیر خارجہ، وزیر ثقافت، وزیر اطلاعات اور فوج کے ترجمان نے خرطوم میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور خصوصی اداروں کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ سوڈان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے حملہ، ڈرون طیاروں کے ذریعے کیا گیا اور اس بات کے بھی حتمی شواہد موجود ہیں کہ حملہ آور ڈرون طیارے ایتھوپیا کی حدود میں واقع ہوائی اڈوں سے آئے تھے۔ روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک کے مطابق، سوڈانی حکام نے زور دیا کہ خرطوم ہوائی اڈہ ایک شہری سہولت ہے کہ جو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے نشانہ بنانا ایک خطرناک خلاف ورزی ہے۔ سوڈانی حکام نے خبردار کیا کہ سوڈان مناسب وقت اور مناسب جگہ پر جواب دینے سے متعلق اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اس موقع پر سوڈانی وزیر خارجہ نے ایتھوپیا سے ملکی سفیر کو مشاورت کے لئے واپس بلانے کا اعلان بھی کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ خرطوم اس صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کئے گئے اپنے کیس میں مزید شواہد شامل کرے گا۔ سوڈانی حکام نے اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کے نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کیا اور ایتھوپیا کے عوام کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات پر زور دیتے ہوئے ایتھوپیا کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سوڈانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حملہ آور ڈرون طیاروں میں سے ایک کو سوڈانی فضائی دفاع نے 17 مارچ کے روز مار گرایا تھا جس کے ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ منسلک تھا اور اسے ایتھوپیا کی حدود سے استعمال میں لایا گیا تھا۔ سوڈانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار سوڈان کے خلاف براہ راست جارحیت کی نشاندہی کرتے ہیں لہذا سوڈانی فوج اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہے گی اور ملکی خودمختاری و سلامتی کو درپیش کسی بھی قسم کے خطرے سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نپٹے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے