ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنا ارادہ ثابت کرنے کیلئے قبضے میں لے رکھا ہے، امریکہ
امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نہ صرف کئی ایک دہائیوں سے دنیا بھر کو "بلیک میل” کر رہا ہے بلکہ وہ "اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے” آبنائے ہرمز کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مزید کہا کہ واشنگٹن "ایرانی خطرات” کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت کو بحال کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے تاہم امریکہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
واضح رہے کہ ایرانی سمندری حدود میں واقع، عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے حساس ترین آبناء "ہرمز” کچھ عرصہ قبل تک کسی بھی قسم کے بحری جہازوں کے لئے مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی تاہم امریکہ اور قابض صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کے آغاز اور خاص طور پر خلیج فارس کے اندر واقع بعض عرب ممالک کی جانب سے اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا "اعلانیہ ساتھ” دیئے جانے کے فورا بعد، تہران نے آبنائے ہرمز کے راستے دشمن ممالک کے کسی بھی بحری جہاز کے گزرنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ ایران نے اعلان کر رکھا ہے کہ معاند ممالک کے علاوہ کسی بھی ملک کا بحری جہاز، ایرانی فورسز کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے آبنائے ہرمز سے بلا ہچکچاہٹ گزر سکتا ہے۔
