تحریک انصاف کی احتجاجی ” تحریک "

haider-e1691558796186.jpg

کالم نگار :-حیدر جاوید سید

تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے انتخابات میں دھاندلی اور پی ٹی آئی سے روا رکھے جانے والے نامناسب سلوک کے خلاف ملک میں احتجاجی تحریک چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ احتجاجی تحریک کا آغاز 30 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام کے انعقاد سے کیا جائے گا جبکہ 21 اپریل کو کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق 21 اپریل کی ریلی میں شرکت کے لئے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ رابطہ پر بھی مشاورت کی گئی تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بانی سربراہ عمران خان کریں گے۔ انتخابی عمل میں دھاندلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کا پہلے دن سے یہ موقف ہے کہ اس کے حمایت یافتہ 188 ارکان نے ملک بھر سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن فارم 47 میں شکست خوردہ امیدواروں کو جتوادیا گیا یہ کام مخصوص قوتوں کے ایما پر ہوا اور اس میں نگران حکومت اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر بھی شامل ہیں۔
بالفرض اس موقف کو جو پچھلے ایک سوا ایک ماہ سے پی ٹی آئی کی سیاست کا بیانیہ ہے درست مان لیا جائے تو اس حوالے سے پہلا سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی ان 88 (جوکہ بقول اس کے حمایت یافتہ امیدواروں سے چھینی گئیں) نشستوں کی صوبائی حساب سے تفصیل سامنے کیوں نہیں لارہی کیونکہ اس وقت تک دھاندلی کی شکایات کے حوالے سے اس کی ساری شکایات اور الزامات صوبہ پنجاب اور کراچی ڈویژن کے حوالے سے ہیں۔
ان کے ناقدین جب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ملک میں منظم دھاندلی ہوئی جیسا کہ پی ٹی آئی دعویٰ کررہی ہے تو پھر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں آسانی کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں کیسے کامیاب ہوگئے کہ صوبائی اسمبلی میں اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی
نیز یہ کہ اسی صوبے (خیبر پختونخوا) سے قومی اسمبلی کےلئے بھی بڑی تعداد میں اس کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوگئے؟ ہماری دانست میں اس سوال کا جواب وہ ہرگز نہیں جو پی ٹی آئی کے بعض جذباتی رہنما اپنی تقاریر اور بیانات میں دیتے ہیں کہ ’’خیبر پختوانخوا کے رائے دہندگان غیرت مند ہیں دھاندلی کرنے والے جانتے تھے کہ اس صوبے میں نتائج تبدیل کرنے کی صورت میں خون خرابہ ہوسکتا ہے‘‘۔
کیا اس جذباتی جواب سے دوسرے تین صوبوں کے رائے دہندگان کی توہین نہیں ہوتی؟ بظاہر یہ جذباتی موقف تحریک انصاف کی سیاسی اٹھان اور عمومی رویوں سے عبارت ہے کہ دوسرے کی مخالفت اور اپنے حق میں اتنی سخت بات کہہ دی جائے کہ جواب دینے والے کو کئی بار سوچنا پڑے۔
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر قومی اسمبلی کی 88 نشستیں چھین کر اس کے مخالفین کو دی گئیں تو پی ٹی آئی نے ان 88میں سے کتنی نشستوں کے نتائج پر انتخابی عذرداریاں داخل کیں؟
محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دھاندلی ہوئی اور ہمارا مینڈیٹ چھین لیا گیا ان الزامات کو عملی طور پر ثابت کرنا اہم ہے اس ضمن میں پہلا کام تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے چھینی گئی قومی اسمبلی کی نشستوں کی صوبوں کے حوالے سے تعداد سامنے لائے
ثانیاً دائر کردہ انتخابی عذرداریوں کی تفصیل ہر دو کو عوام کے سامنے رکھ کر ہی پی ٹی آئی اپنا مقدمہ عوام اور قانون کی عدالتوں میں لڑسکتی ہے
صرف ہوا میں الزامات کی تلواریں چلاتے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا اس کی وجہ خود پی ٹی آئی کے بانی سربراہ اور دیگر قائدین کا ماضی میں اپنی ہی الزاماتی تکرار سے رجوع کرتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ وہ تو سیاسی بیانات تھے۔
اس ضمن میں ماضی کی دو مثالیں اہمیت کی حامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے بانی 2013ء کے انتخابی نتائج کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر 35 پنچر (35 نشستیں چھیننے) کا الزام تواتر کے ساتھ لگاتے رہے۔ 2014ء میں احتجاجی تحریک اور دھرنے کا سرنامہ کلام یہی الزام تھا بعدازاں انہوں نے یہ کہہ دیا کہ 35 پنچروں والی بات تو سیاسی بیان تھا۔
اسی طرح عمران خان 2010ء سے مسلسل اس الزام کو دہراتے آرہے تھے کہ ملک کے 200ارب ڈالر لوٹ کر بیرون ملک بینکوں میں رکھے گئے ہیں لیکن 2018ء میں انہیں اقتدار دلوایا گیا تو ان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک ٹی وی پروگرام میں لوٹے گئے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے سوال پر جواب دیا، "یہ تو صرف جلسوں کی باتیں ہوتی ہیں ” ۔
اندریں حالات یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف یا دیگر مطالبات کے حوالے سے عوامی تحریک چلانا پی ٹی آئی کا قانونی اور جمہوری حق ہے مگر ماضی میں اپنے ہی عائد کردہ بعض سنگین الزامات سے اس نے جس طرح رجوع کیا اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک چلانے سے قبل پی ٹی آئی سارے ثبوت عوام کے سامنے رکھے یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا ماضی بتاتا ہے کہ بلند آواز سے نخوت اور نفرت بھرے انداز کے ساتھ لگائے جانے والے الزامات کو بعد میں سیاسی بیان کہہ کر مٹی ڈالنے کو کافی سمجھ لیا گیا
ثانیاً یہ کہ ایک سابق حکمران جماعت جواب بھی ایک صوبے میں برسراقتدار ہے کو یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں احتجاجی تحریک کے نتائج کیا نکلیں گے بالخصوص سیاسی و معاشی عدم استحکام سے بنے ماحول میں یہ تحریک عوام اور ملک کو کچھ دے پائے گی یا مسائل میں اضافے کا سبب بنے گی؟

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے