6834-875.jpg

طبیعت نا ساز ہے، دل اداس ہے۔ لاہور اور کراچی میں بارش کی شکل میں آنسو بہہ رہے ہیں، ایسے میں کیا لکھوں؟ مقتدرہ کی حکمت عملیوں کا قصیدہ لکھوں، تضادستان کے زوال کا نوحہ لکھوں، مقتدرہ اور اہل سیاست کےمشترکہ کارناموں کی ہجولکھوں، دوسروں کی طرح اپنے ناپسندیدہ لوگوں کی ہزل لکھوں یا پھر ’سب اچھا ہے‘ کے اصول کے تحت حسن و جمال سے بھری غزل لکھ ڈالوں۔ کافی سوچا کہ کیا لکھوں اور پھر اس نتیجے پرپہنچا کہ لکھنا ہے تو پھرسیاست اور اگلے الیکشن پر ہی لکھنا پڑے گا۔

موہنجودڑو سے لے کر ہماری ہزاروں برس کی تاریخ میں کوئی انقلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔ صدیاں بیت گئیں جبر، ظلم اور ڈنڈا ہی اس خطے میں حکمرانی کرتا رہا ہے۔ موہنجودڑو میں پروہت سائیں کی حکمرانی تھی اور غلے تک کی تقسیم اسکے پاس تھی، پھر حملہ آوروں کے غول کے غول آئے، موہنجو دڑو کے رہائشی دراوڑ پرامن لوگ تھے انکے پاس تو ہتھیار تک نہیں تھے۔

بیرونی حملہ آور گھوڑوں پر سوار ہو کر جنگیں لڑنے کے ماہر تھے، اس خطے کے لوگ بہت جلد انکے زیرنگیں ہوگئے اور آج تک اس خطے کے اصلی باسی دراوڑ غریب اور پسماندہ ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ افغان آئے، مغل آئے اور بالآخر انگریز آئے، سب نے معاشرے کی آزادی کو دبانے کیلئے ایک جیسی پالیسیاں اختیار کیں، یوں صدیوں کی غلامی نے اس خطے میں انقلابی جذبے کے شعلوں کو بجھا دیا۔ 1857ء کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والوں کوتوپوں سے باندھ کر ایسی بھیانک سزائیں دیں کہ آزادی کی بات کرنیوالے کئی صدیوں کیلئے غائب ہوگئے۔ پاکستان بنا تو ہم نے کمیونسٹوں کیساتھ وہ سلوک کیا کہ الامان ،الحفیظ۔ پھر تھوڑے عرصے ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی ریاستی غضب و غیظ کا شکار رہی۔

بنگالیوں کو تو ریاست کا برابر کا شہری ہی نہ سمجھا اور یوں ان پر اتنے ظلم کئے کہ وہ بے چارے مجبور ہوگئے کہ بغاوت کرکے ہم سے الگ ہو جائیں، وہاں بغاوت اسلئے کامیاب ہوگئی کہ راستے میں سمندر پڑتا تھا اور ہمارے ٹینک وہاں جا نہیں سکتے تھے۔ ریاست تضادستان میں جہاں جہاں ٹینک جاسکتا ہے وہاں بڑی سے بڑی بغاوت کو فرو کیا جاسکتا ہے۔ ریاستی جبر کا اگلا نشانہ پیپلزپارٹی بنی۔ ریاست آخری حد تک گئی مقتدرہ اور عدلیہ نے مل کر دو تہائی رکھنے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا۔ ریاست کی یہ ناپسندیدگی پندرہ بیس سال چلی اسی میں بے نظیر بھٹو کی جان بھی دہشت گردی کی نذر ہوگئی، اس زمانے کے طالبان ریاست کے منظور نظر ہوا کرتے تھے انہی طالبان نے بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنایا۔ زمام اقتدار آصف زرداری کے ہاتھ میں آئی تو انہوں نے ریاست کو رام کرلیا۔

اگلا مرحلہ نواز شریف اور ن لیگ کاتھا انہیں وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا، جلا وطن کیا گیا، جیلوں میں رکھا گیا، نااہل کیا گیا، پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی گئی، ق لیگ، ن لیگ سے ہی نکلی تھی۔ اس زمانے میں ریاست کی ایک نئی پسندیدہ جماعت تحریک انصاف آگئی اسے حمایت و امدادفراہم کرکے اقتدار میں لایا گیا آج کل اس پر سختی کا دور ہے، سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہیں، سزائوں پر سزائیں ہو رہی ہیں اور فی الحال انہیں ریلیف ملنے کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

8فروری کے الیکشن چند دن دور ہیں، کیا ہمیں بحیثیت قوم سوچنا نہیں چاہئے کہ 75سال کے تجربوں سے کیا ہم ترقی کر رہے ہیں یا زوال کا شکار ہیں؟ کوئی فوجی ہو یا سویلین، کوئی سیاستدان ہو یا صحافی، کوئی قید میں ہو یا حاکم، سب کا مفاد تو پاکستان میں ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ہم 75 سال کے ناکام تجربوں کےبعد دنیا سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھیں، ریاست ظلم اور جبر سے وقتی طور پر تو جیت جاتی ہے مگر ظلم سے لگے گھائو عمر بھر رستے رہتے ہیں۔ صدیوں پہلے ہاری جنگیں ہوں یا ناکام بغاوتیں وہ قوم کے شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔ آج کل ہمارے معاشرے میں یوتھ کی اکثریت ہے، معاشرہ کروٹ لے رہا ہے ایسے میں ریاستی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

چند دن بعد ہونے والے الیکشن کے دو منظر نامے ہیں اگر سب کچھ ریاست کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے تو نواز شریف کو وفاقی حکومت ملے گی۔ فرض کریں کہ نتائج ریاست کی مرضی کے خلاف آتے ہیں تو ریاست اور تحریک انصاف میں ایک نیا مقابلہ ہوگا، کشمکش ہوگی، ہوسکتا ہے تشدد ہو، مظاہرے ہوں۔ لیکن کیا ریاست، اگر پی ٹی آئی جیت بھی جائے تو اسے اقتدار دے گی؟

1979ءکے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی اکثریت عوام دوست کے نام سے جیت گئی تھی، ریاست نے سب کو نااہل کروا دیا۔ جنرل مشرف کے دور میں پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت آ گئی تھی پیٹریاٹ بنا کر اقتدار ق لیگ کو دے دیا گیا۔ 2018ء میں پنجاب میں ن لیگ کے پاس اکثریت تھی مگر آزاد تحریک انصاف میں شامل کرکے اقتدار تحریک انصاف کو دے دیا گیا، اگر کوئی معجزہ نہ ہوا یا کوئی انقلاب نہ آیا تو ریاست کی مرضی ہی چلے گی چاہے یہ مرضی کتنی بھی غیر مقبول کیوں نہ ہو۔

اب اس مفروضے پر غور کرتے ہیں کہ ریاست کی مرضی کی حکومت تو آ جائے گی مگر کیا وہ لانگ ٹرم میں ریاست کی مرضی پر چل پائے گی یا نہیں؟ اگر نہ چلی تو پھر سے ایک نئی گڑ بڑ شروع ہو جائے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن کے کردار کے بغیر کوئی ریاست یا حکومت نہیں چل سکتی۔

ریاست کو تحریک انصاف ہو یا باغی بلوچ ،ان کا مستقل حل سوچنا چاہئے۔ ریاست وقتی طور پر انہیں دبالے گی، ڈرا بھی لے گی، لیکن کیا اس سے ایک اچھا ترقی پسند اور خوشحال معاشرہ قائم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ تضادستان کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر مقتدرہ ہے اسےسوچنا چاہیے کہ اگر جمہوریت نہ ہوئی تو دنیا بھر کی مخالفانہ نظروں کا نشانہ فوج بنے گی۔ جمہوریت ایک پردہ ہوتا ہے جس کے پیچھے فوج کو چھپا لیا جاتا ہے، ایٹمی پاکستان کی فوج دنیا بھر کی نظروں میں کھٹکتی ہے، اگر اسے محفوظ رکھنا ہے تو جمہوریت کی آہنی دیوار مضبوط کریں۔ دوسری طرف اگر سیاسی استحکام نہیں آتا تو معاشی استحکام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

معاشی استحکام نہ ہو تو فوج بھی مضبوط نہیں رہ سکتی، اگر ریاست کے پاس پیسے ہی نہ ہوں تو فوج جدید ہتھیار کہاں سے خریدے گی، ٹینک، جہاز، گاڑیاں اور توپیں فوج کی ضرورت ہیں، ملک معاشی طور پر جتنا مضبوط ہوگا اسی قدر زیادہ ہم دفاع پرخرچ کرسکیں گے۔ سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈر عدالتی سزائوں سے کمزور نہیں مضبوط ہوتے ہیں، انہیں صرف بہتر کارکردگی اور اخلاقی برتری حاصل کرکے شکست دے جاسکتی ہے۔ فی الحال سزائوں پر زور نظر آ تا ہے لیکن کارکردگی اور اخلاقی برتری کے دو اہم ترین سیاسی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ الیکشن کے دن یا پھر بعد میں مرضی کے نتائج حقائق نہیں بدلیں گے، حقائق بدلنے ہیں تو پالیسیاں بدلنی پڑیں گی

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے