پاکستان کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے تمام فریقوں کی تعمیری شمولیت پر زور
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے تمام فریقین کی تعمیری شمولیت اور سفارتی کوششیں جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمعرات کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
بیان کے مطابق ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
اس کال میں، اسحاق ڈار نے باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری جاری رکھنے کی اہمیت اور تمام فریقین کی تعمیری شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستانی تحریک پر "دوران جنگ سفارت کاری کے کردار” سے متعلق صدارتی بیان منظور کرلیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دستاویز میں تنازعات کے پھوٹ پڑنے کے بعد بھی سفارتی رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جس میں ثالثی، مساعی جمیلہ اور مواصلات کے ذرائع کو برقرار رکھنا شامل ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کو آسان بنانا اور دیرپا سیاسی حل تک پہنچنا ہے۔”
یہ بیان، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کا تسلسل ہے، جولائی 2025 میں پاکستان کی کونسل کی صدارت کے دوران منظور کیا گیا تھا۔
اس بیان میں فعال تنازعات کے دوران سفارت کاری کے اہم کردار پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس اصول پر زور دیا گیا ہے کہ تنازعات کے تمام مراحل پر سفارتی کوششیں جاری رہنا چاہیے۔
قبل ازیں پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے عمانی ہم منصب سے فون پر بات چیت اور مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔



