◷

روسی صدر کے ساتھ ما بعد جنگ معاملات

6 نومبر 2026

روسی صدر کے ساتھ ما بعد جنگ معاملات/ خطے میں سیکورٹی انتظامات کے بارے میں اہم بات چیت کی ہے: سیکریٹری سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل

سپریم لیڈر کے نمائندے اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر کے ساتھ ملاقات میں اہم علاقائی مسائل کے بارے میں مشاورت اور ما بعد جنگ معاملات بالخصوص خطے میں سیکورٹی انتظامات کے بارے میں اہم بات چیت کی ہے۔

میجر جنرل محسن رضائی نے روسی صدر سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے چار فریقی اجلاس کے بارے میں بھی پوٹن کو آگاہ کیا۔

انہوں نے صدر پیوٹن نے اس اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے  کہا کہ ہم اپنے چینی دوستوں کی طرح اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خطے کی سلامتی کے لیے علاقائی بندوبست کی ضرورت ہے اور بیرونی ممالک کو علاقے کی سلامتی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

 میجر جنرل محسن رضائي نےبتایا کہ اس ملاقات میں دوطرفہ تعاون کے اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں رشت آستارہ ریلوے لائن کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے روس کے تعاون سے رشت-آستارا ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے ایگزیکٹیو کنٹریکٹ کی منظوری دی ہے اور اس معاہدے پر بہت جلد دستخط کیے جائيں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس ریلوے لائن کی تعمیر کے علاوہ ایران کے لیے روسی گیس پائپ لائن کی تعمیر کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی جس سے نہ صرف ملک کی گیس کی قلت دور کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ایران کو روسی گیس ہمسایہ ممالک کو فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ مجموعی طور پر مسٹر پیوٹن کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اس ملاقات میں خطے میں استحکام کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ روسی صدر نے ایران پر امریکی اور صیہونی حکومت کے فوجی حملے اور ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر پیوٹن نے واضح طور پر کہا کہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت ایک ظالمانہ  ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک اس جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ انہوں نے روسی صدر کو آگاہ کیا کہ ہم نے سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی غرض سے امریکیوں سامنے 7 شرائط رکھی ہیں اور جب تک امریکی ہماری سات شرائط پوری نہیں کرتے اس وقت تک نہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک جو سفارت کاری ہو رہی ہے اس کا مقصد صرف اور صرف اس لیے کہ امریکی ہمارے حقوق کو تسلیم کرلیں۔اگر امریکی ہماری سات شرائط پوری کرتے ہیں تو اس سے ظاہر ہوگا کہ وہ اپنا طرز عمل بدلنا چاہتے ہیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے