ریپبلکنز کی شکست ٹرمپ کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کا نتیجہ ہے: صالحی
ایران کے سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست ٹرمپ کے غیر دانشمندانہ اور دوراندیشی سے عاری فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ اور ایران شناسی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے امریکی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کو اس ملک کے حکمرانوں کی جانب سے دانشمندی اور دوراندیشی سے عاری راستہ اختیار کرنے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے پروپیگنڈے اور رہنمائی سے متاثر فیصلوں نے امریکا کو ایسی صورت حال میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔
علی اکبر صالحی نے جمعہ کے روز ارنا سے بات کرتے ہوئے امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے وسط مدتی الیکشن میں ریپبلکنز کی شکست کے بارے میں، جسے اس ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، کہا کہ امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اس طرح کے نتائج کا سامنے آنا ناقابل یقین تھا، بالخصوص ایوان نمائندگان میں، جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے ووٹوں کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کے ہاتھوں شکست نہیں ہوئی بلکہ انھیں اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔
ایران کے کے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے حکمراں دوراندیشی، غور و فکر، تدبیر اور دانشمندی کے بغیر ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں جس کے نتائج کا انھوں نے درست اندازہ نہیں لگایا ہوتا۔ صیہونی حکومت کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر وہ خود کو ایسی صورت حال میں ڈال دیتے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا اور انھیں ایسے ہی انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صالحی نے زور دے کر کہا کہ آج معاملہ صرف امریکا کے جنگ سے نکلنے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ امریکی حکومت اپنی ساکھ کیسے بچائے گی کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا نے اپنی حکمرانی کے دو پہلو بے نقاب کر دیے۔ پہلا پہلو فوجی تھا، جس سے ثابت ہو گیا کہ اس ملک کی ناقابل شکست طاقت کے بارے میں کیے جانے والے دعوے محض ایک افسانہ ہیں۔ چین اور روس جیسے حریفوں کے ساتھ مقابلے کے تناظر میں بھی یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ جھوٹا بیانیہ تشکیل دے کر اور غلط تصویر پیش کرکے ہماری رائے عامہ اور داخلی اتحاد کو ختم کر سکتے ہیں لیکن بحمد اللہ اس محاذ پر بھی وہ ناکام رہے۔
ایران شناسی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی میں امریکا کے داخل ہونے کے چار مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا: امریکی اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا شیرازہ بکھیرنا، ملک کو تقسیم کرنا، عوام اور حکومت کو ایک دوسرے سے جدا کرنا اور ایران کو اپنے سیاسی دائرۂ اثر میں لانا چاہتے تھے، لیکن وہ ان میں سے کسی ایک مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔
صالحی نے کہا کہ امریکا جو کچھ چاہتا تھا، سب اس کے برخلاف ہوا۔ ہمارا قومی اتحاد مضبوط ہوا، نظام کے لیے عوام کی حمایت میں اضافہ ہوا اور مغربی پالیسیوں سے انکار کی آواز مزید بلند ہوئی۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ جب کوئی حکومت تدبیر، دانشمندی اور غور و فکر کے بغیر ایسے میدان میں قدم رکھتی ہے جس کے نتائج کا اس نے درست اندازہ نہ لگایا ہو، تو اسے ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



