◷

ہم یمن تنازع کا حصہ نہیں;پاکستان

31 اکتوبر 2026

یمن کے تنازع میں ہمارا کوئی کردار نہیں؛ ترجمان پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہم یمن تنازع کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ یہ یمن کا اندرونی تنازع تصور کیا جاتا ہے۔

ہفتہ کی صبح جنرل احمد شریف چوہدری نے عاصم منیر کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی پاکستانی فوجی وفد کے  اور بعد ازاں سہ فریقی دفاعی معاہدے میں شامل ملکوں کے وفود کے دورہ تہران کے بعد اپنے پہلے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے "محتاط پر امید” ہے۔

روئٹرز کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا تہران کے حالیہ دوروں کو مثبت علامت سمجھا جاتا ہے، انہوں نے کہا: اگر مثبت آثار نہ ہوتے تو آرمی چیف وہاں دو بار سفر کیوں کرتے؟  

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل  نے مزید کہا کہ "ہم جو جملہ استعمال کرتے ہیں وہ ہمیشہ محتاط امید پر مبنی ہوتا ہے۔”

ساتھ ہی انہوں نے مخصوص افراد یا گروہوں کا نام لیے بغیر کہا کہ اب بھی تخریبی عناصر اور طاقتور مخالفین موجود ہیں جو تنازعات کے جاری رہنے کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔

تاہم احمد چوہدری نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے  یا یہ کہ امریکہ نے عاصم منیر کے حالیہ دوروں کی حمایت کی تھی، کچھ کہنے سے گریز کیا۔  

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اسلامی جمہوریہ ایران سہ فریقی دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے متن میں نئے اراکین کی شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ  اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کے بارے میں ایک مشترکہ نقطہ نظر رکھنے والوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

شریف نے مزید کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنا دفاعی معاہدے کی تینوں اہم فریقوں کے سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جائیں گے، احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ  حالات اور دونوں ممالک کے سیاسی رہنماؤں فیصلوں پر منحصر ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مکہ اور مدینہ میں مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے