آبنائے ہرمز سے جڑے تیل بحران کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو اٹھانا پڑا
آبنائے ہرمز سے متعلق عالمی تیل بحران کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر کے صارفین پر 468 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثر امریکہ ہوا ہے۔ فن لینڈ کے مرکز برائے تحقیقِ توانائی و صاف ہوا کے مطابق، امریکہ میں ایندھن کے اخراجات میں 160 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
فن لینڈ کے مرکز برائے تحقیقِ توانائی و صاف ہوا (CREA) نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق عالمی تیل بحران کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے امریکہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوا ہے۔
اس مرکز نے ایران کے خلاف جنگ کے عالمی سطح پر ایندھن کے اخراجات پر اثرات سے متعلق اپنے تجزیے میں بتایا کہ گزشتہ فروری کے اواخر میں امریکہ اور صیہونی ریاست کے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کے صارفین پر 468 ارب ڈالر کا اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔
امریکہ 160 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کے ساتھ سرفہرست
اس تجزیے کے مطابق، اس بحران کے باعث امریکہ میں ایندھن کے اخراجات 160 ارب ڈالر بڑھ گئے، جو دنیا بھر کے صارفین پر پڑنے والے مجموعی اضافی بوجھ کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
چین 54 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ کینیڈا 17 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
ہر امریکی شہری پر ایندھن کے 471 ڈالر اضافی اخراجات
فی کس اضافی اخراجات کے لحاظ سے امریکہ میں یہ رقم 471 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، حالانکہ امریکہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
یہ رقم فی کس عالمی اوسط، یعنی 60 ڈالر، سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے۔
کینیڈا میں فی کس اضافی اخراجات 422 ڈالر رہے، جس کے ساتھ وہ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ آسٹریلیا 386 ڈالر فی کس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
مرکز برائے تحقیقِ توانائی و صاف ہوا نے بتایا کہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیگر منڈیوں پر مبنی معیشتوں میں ریکارڈ کیے گئے اضافے کے مقابلے میں نمایاں رہا ہے۔ تاہم، امریکہ میں فی کس ایندھن کا زیادہ استعمال اور تیل پر انحصار کم کرنے میں محدود پیش رفت اس کے زیادہ متاثر ہونے کی اہم وجوہات ہیں۔
آبنائے ہرمز؛ عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کا اہم سبب
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کو لاحق خطرات کے باعث عالمی تیل منڈی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی اور اشیا کی ترسیل کے اہم ترین تزویراتی راستوں میں سے ایک ہے۔
گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی حملوں کی ایک لہر کے بعد خام تیل کی عالمی قیمت، برینٹ، 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور اپریل کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ پیر کے روز بھی اس تیل کی قیمت دوبارہ اسی سطح کے قریب پہنچ گئی۔



