◷

توہین آمیز بیان ٹرمپ کے وزیر صحت کا

28 اکتوبر 2026

ٹرمپ کے وزیر صحت کا عربوں کے خلاف توہین آمیز بیان، 50 کروڑ افراد کی علمی و ادبی خدمات پر سوال اٹھا دیا

امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ریاست مشی گن میں ایک انتخابی اجتماع کے دوران دعویٰ کیا کہ دنیا میں تقریباً 50 کروڑ عربوں کی آبادی کے باوجود سائنس اور ادب کے میدان میں ان کی کوئی قابلِ ذکر کامیابی نہیں۔ ان کے اس بیان پر تنقید کی گئی ہے۔

امریکا کے وزیر صحت و انسانی خدمات رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ریاست مشی گن میں ری پبلکن پارٹی کے ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عربوں کے بارے میں ایسے بیانات دیے جن میں ان کی علمی اور ادبی خدمات کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں تقریباً 50 کروڑ عرب آباد ہیں، لیکن سائنس کی ترقی، معتبر علمی و ادبی انعامات کے حصول اور ادبی تخلیقات کے میدان میں ان کی کوئی کامیابی نہیں ہے۔

کینیڈی نے یہ باتیں مشی گن سے امریکی سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے مسلمان امیدوار محمد عبدالسید پر تنقید کرتے ہوئے کہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اسٹیو بینن کے مطابق، کینیڈی نے ابتدا میں اخوان المسلمون کے بارے میں اپنے علم کا دعویٰ کیا، لیکن پھر اس تنظیم تک بات محدود رکھنے کے بجائے عربوں اور مسلمانوں کی وسیع آبادی کے بارے میں عمومی دعوے کرنے لگے۔ حالاں کہ عبدالسید اس سے پہلے اخوان المسلمون سے تعلق کی تردید کر چکے ہیں اور اس تنظیم سے اپنی مخالفت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مصنف نے کینیڈی کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ عربوں کی سائنس اور ادب میں کوئی قابلِ ذکر خدمات نہیں ہیں۔ اس کے رد میں انہوں نے عرب اور مسلمان سائنس دانوں اور ادیبوں کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ادب کے نوبل انعام یافتگان نجیب محفوظ اور عبدالرزاق گرنہ کے نام لیے۔ تجزیہ کار کے مطابق، امریکی وزیر صحت کا بیان نہ صرف ایک بڑی آبادی کی کامیابیوں کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ عربوں اور مسلمانوں کی توہین آمیز تصویر بھی پیش کرتا ہے۔

ایم ایس ناؤ کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ملوث ہے اور امریکی فوج بعض اتحادی ممالک میں تعینات ہے۔ رپورٹ کے مصنف کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس کی کابینہ کے ایک رکن کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے محض ایک غلط بیان نہیں، بلکہ امریکا کے علاقائی ممالک اور عرب و مسلمان برادریوں کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران سامنے آیا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ری پبلکن اتحادیوں کی جانب سے مسلمانوں پر لفظی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایم ایس ناؤ کے مطابق، مشی گن امریکا کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں مسلمان آبادی کا تناسب نمایاں ہے، اور اب یہ ریاست اس سیاسی کشمکش کا ایک اہم مرکز بن گئی ہے۔ کینیڈی نے یہاں عربوں اور مسلمانوں کی کامیابیوں پر سوال اٹھائے، جبکہ مشی گن کی سینیٹ نشست کا مقابلہ کانگریس میں طاقت کے توازن کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مصنف نے عرب اور مسلمان ووٹروں کے ایک حصے کے ری پبلکن پارٹی کے بارے میں بدلتے ہوئے رویے کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بعض ووٹروں نے 2024 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، لیکن امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب وہ اس جماعت کے رویے سے مایوسی اور دھوکا کھانے کا احساس رکھتے ہیں۔ تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسلام مخالف بیانات اور عربوں و مسلمانوں کی توہین پر مبنی زبان جاری رہنے سے ری پبلکنز کو اس ووٹر طبقے کی حمایت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے