امریکا میں اسلاموفوبیا کے خلاف ٹیکساس کے مسلمان متحرک، انتخابی عمل میں شرکت بڑھ گئی
امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ٹیکساس کے مسلمانوں نے اسلاموفوبیا اور مذہبی امتیاز کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسلام کی منصفانہ تصویر پیش کی جائے اور اسکولوں میں مسلمانوں کے بارے میں تعصب پر مبنی مواد سے گریز کیا جائے۔
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں مسلمان وسط مدتی انتخابات سے قبل اسلاموفوبیا اور مذہبی امتیاز کے خلاف اپنی مہم کو وسعت دے رہے ہیں۔
شہر فریسکو میں اسلامی مرکز کے ارکان نے پہلی بار ’’باربی کیو اور ووٹ‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب منعقد کی، جس کا مقصد سماجی اجتماع کے ساتھ مسلمانوں کو قبل از وقت ووٹنگ میں حصہ لینے کی ترغیب دینا تھا۔ شرکا نے زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی عمل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
ٹیکساس میں اسلاموفوبیا کے حوالے سے تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ نے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس کے علاوہ ری پبلکنز کی حمایت سے اسلامی شریعت پر پابندی لگانے کی تجاویز اور اسکولوں میں سماجی علوم کا نیا نصاب بھی تنازعے کا باعث بنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نصاب میں اسلام کو زیادہ تر جنگوں اور فتوحات کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
مساجد کی تعمیر سے متعلق اختلافات اور بعض مقامی امیدواروں کے اسلاموفوبیا پر مبنی بیانات نے بھی مسلمانوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی شہریت حاصل کرنے والی سارہ اسرار، جو تین بچوں کی ماں ہیں اور پہلی بار ووٹ ڈال چکی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے زیادہ تر ووٹ ڈیموکریٹ امیدواروں کو دیے، کیونکہ وہ ریاست کے نئے نصاب کی مخالف ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں نصاب میں پیش کی گئی تصویر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’وہ صرف ہمیں برا دکھانا چاہتے ہیں۔‘‘
سارہ اسرار نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنا مذہب چھپانا پڑے گا۔ فریسکو مسجد کی شہری امور کمیٹی کے رکن نعمان شفیعی نے بھی کہا کہ بعض نمازی، جو روایتی طور پر ری پبلکنز کی حمایت کرتے رہے ہیں، اسلاموفوبیا پر مبنی بیانات میں اضافے کے باعث اپنی سیاسی حمایت پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ٹیکساس میں امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو کی انتخابی مہم کے رضاکار یامین احمد نے کہا کہ رواں سال ریاست میں اسلاموفوبیا میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی انتخابی شرکت سیاست دانوں کو اس برادری کے خدشات کا جواب دینے پر مجبور کرے گی۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو اور ری پبلکن اٹارنی جنرل کین پاکسٹن کے درمیان مقابلہ اہم انتخابی معرکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس ریاست میں مسلمانوں کے ووٹ سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔



