◷

اسرائیل میں انتخابات کے بعد سیاسی تعطل

28 اکتوبر 2026

نیتن یاہو کو حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا

لیکود سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے، مگر کسی بھی سیاسی دھڑے کو واضح پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں؛ عرب جماعتوں کا کردار اہم ہو گیا

28 اکتوبر 2026

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی تعطل کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے آکسیوس کے مطابق، نگراں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد کو بھی حکومت تشکیل دینے کے لیے واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق، تقریباً 70 سے 77 فیصد ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کے سیاسی بلاک کو 54 نشستیں، گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں تبدیلی کے حامی اتحاد کو 47 نشستیں، جبکہ عرب جماعتوں کو 19 نشستیں حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، میں حکومت بنانے کے لیے 120 میں سے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ 54 نشستوں کا عدد نیتن یاہو کے سیاسی بلاک سے متعلق ہے، صرف ان کی جماعت لیکود سے نہیں۔ لیکود تقریباً 21 فیصد ووٹ حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

عرب جماعتوں کا اہم کردار

عرب جماعتوں کی جانب سے نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کی کوششوں میں تعاون کا عندیہ دیا گیا ہے۔ عرب مشترکہ فہرست کے سربراہ یوسف جبارین سے منسوب بیان کے مطابق، ان کی جماعت نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم، عرب جماعتوں کی حمایت اپوزیشن کے لیے حکومت سازی میں کس حد تک مددگار ثابت ہوگی، اس کا انحصار آئندہ سیاسی مذاکرات اور مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ سمجھوتوں پر ہوگا۔

جنگ کی صورت میں قومی اتحاد کی حکومت کا امکان

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، لیکود کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو نیتن یاہو اپنے حریف گادی آئزنکوٹ کو قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

یہ امکان اسرائیل کی داخلی سیاست میں سکیورٹی صورتحال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم فی الحال ایسی کسی حکومت کے قیام کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

حکومت سازی کا آئینی طریقۂ کار

انتخابی نتائج سرکاری طور پر حتمی ہونے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور حکومت بنانے کے لیے کسی رکنِ کنیسٹ کو نامزد کریں گے۔ یہ ضروری نہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ ہی حکومت سازی کی ذمہ داری حاصل کرے؛ صدر اس امیدوار کو ترجیح دے سکتے ہیں جس کے بارے میں یہ امکان ہو کہ وہ پارلیمانی اکثریت کی حمایت حاصل کر سکے گا۔

نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن دیے جاتے ہیں، جن میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ اگر وہ ناکام ہو جائے تو کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکے تو ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کی سیاست کا آئندہ منظرنامہ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر کوئی بھی دھڑا 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل کو طویل سیاسی مذاکرات اور حکومت سازی کے ایک پیچیدہ مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

موجودہ صورت حال میں لیکود کی انتخابی برتری کے باوجود نیتن یاہو کی حکومت سازی یقینی نہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد کے لیے بھی عرب جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کی حمایت اہم ہوگی۔ حتمی صورت حال کا انحصار سرکاری نتائج اور آئندہ سیاسی مشاورت پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے