باعزت معاہدہ یا بڑی اسٹریٹجک شکست: ٹرمپ کو ایرانی وزیر خارجہ کا انتباہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی عسکری اور قومی طاقت کے بارے میں خام خیالی کے نتیجے میں امریکہ کو ایک بار پھر انتہائی سنگین اسٹریٹیجک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ‘فنانشل ٹائمز’ کے لیے لکھے گئے ایک خصوصی مضمون میں، موجودہ بحران کے تناظر میں ایران کی سفارت کاری اور دفاعی ڈیٹرنس (deterrence) کے اسٹریٹیجک ستونوں کی وضاحت کی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک "سات روزہ منصوبہ” کی جانب اشارہ اور مذاکرات کے دوران امریکی جارحیت کے آغاز کے تلخ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ ایران کی عسکری اور قومی طاقت کے بارے میں خام خیالی پر اصرار کا نتیجہ امریکی عوام کے لیے اربوں ڈالر کے نقصان اور پہلے سے کہیں زیادہ سنگین اسٹریٹیجک شکست کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ‘فنانشل ٹائمز’ کے لیے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ اگرچہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے ایجنڈے مختلف تھے، لیکن ان سب کا پیغام ایک ہی تھا: ایران امریکہ کے ساتھ ایک منصفانہ اور باعزت معاہدہ چاہتا ہے۔ اس طرح کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے، وائٹ ہاؤس کو حقیقی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنی جارحانہ کارروائیوں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا عزم ظاہر کرنا ہوگا۔
ایران اس تنازعے کا پرامن اور باعزت حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے؛ تاہم، وہ اپنے دفاع کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قوتِ برداشت اور استقامت کے بارے میں بنیادی طور پر غلط تصورات اور اندازوں کی بنیاد پر اس تنازعے میں قدم رکھا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں مسلسل غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ہماری مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے تیار نہیں ہیں—ایک ایسا دعویٰ جس کی تمام دستیاب شواہد تردید کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہماری نڈر مسلح افواج نے اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں سے قیمتی تجربہ حاصل کیا ہے۔
مذاکرات کے دوران بمباری کی تاریخ اور واشنگٹن پر اعتماد کا خاتمہ
عراقچی نے مزید لکھا کہ ایک واضح حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایران کے ساتھ امن کی خواہش کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے دعووں کی صداقت پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ثبوت سب کے سامنے عیاں ہیں، جون 2025 اور فروری 2026 میں، جب مذاکرات کا عمل جاری تھا، ہم پر بمباری کی گئی۔ مزید برآں، رواں سال جون میں—ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد—ہم پر تیسری بار حملہ کیا گیا۔ ایسے میں، کوئی دوبارہ امریکی صدر پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے؟
چونکہ وائٹ ہاؤس نے نہ تو مستقبل کے لائحہ عمل پر کسی مفاہمت تک پہنچنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی مزید تشدد کے استعمال کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ روکا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنے کی بہت کم گنجائش ہے۔
خطے کی کشیدگی میں حالیہ اضافہ، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ تنازعہ کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اس کے نتائج کتنے دور رس ہو سکتے ہیں، یہ کہ یہ صورتحال بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے کتنا سنگین خطرہ ہے۔ ان سب کے باوجود، ایک پیشہ ور سفارت کار کی حیثیت سے، میرا فرض ہے کہ میں سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں—حتیٰ کہ تب بھی جب کامیابی کے امکانات بہت کم نظر آتے ہوں۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک "7 روزہ منصوبہ”
ایران کے وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ "اقوام متحدہ کی حالیہ جنرل اسمبلی کے دوران، میں نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے سامنے ایک سات روزہ منصوبہ پیش کیا، جس میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ضروری اقدامات کا خاکہ بیان کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تجویز میں امریکہ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا جس پر وہ پہلے ہی رضامندی ظاہر نہ کر چکا ہو۔ اس فریم ورک میں شامل اقدامات واضح ہیں، اور اس کے نتیجے میں چھٹے دن آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی، اور ساتویں دن حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو جائے گا۔ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، تو خطے میں زندگی بتدریج معمول پر آ جائے گی۔”
دریں اثنا، وائٹ ہاؤس عام امریکی شہریوں کے لیے جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت (نقصانات) کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ان نقصانات کی وسعت کو سمجھنے کے لیے صرف میرے دعووں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک اور جنگ، جسے امریکہ نے اپنی سرحدوں سے باہر اپنی مرضی سے شروع کی، کے آٹھ ماہ گزرنے کے بعد، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ (Moody’s) نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی وجہ سے صرف رواں سال امریکی صارفین کو تقریباً 265 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے؛ یہ رقم فی گھرانہ تقریباً 2,000 ڈالر بنتی ہے۔
اس کل نقصان کا تقریباً نصف حصہ توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے کی وجہ سے ہے—اور اس تخمینے میں تو عالمی معیشت کو پہنچنے والے کہیں زیادہ سنگین نقصانات شامل ہی نہیں ہیں۔ اگر اس میں خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان کے ضیاع کے اخراجات کو بھی شامل کر لیا جائے، تو امریکی مفادات کے لیے اس جنگ کے تباہ کن نتائج اور بھی زیادہ واضح ہو جائيں گے۔ امریکہ کے پاس کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔
امریکہ کے پاس کوئی عسکری حل موجود نہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ محض اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بدولت، ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری آمدورفت پر ہمیشہ ایک منفرد برتری حاصل رہے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ متبادل راستوں کے بارے میں کیے جانے والے پروپیگنڈے کے برعکس، یہ آبی گزرگاہ ایسی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ خطے اور عالمی معیشت، دونوں کے لیے ناگزیر ہے۔ حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی حفاظت کرنے اور یہاں سے قانونی طور پر گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کرنے کے اپنے تاریخی کردار پر بدستور کاربند ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کا ایک راستہ موجود ہے؛ تاہم، یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب امریکی انتظامیہ دیانتداری سے تسلیم کر لے کہ عسکری آپشنز (فوجی اقدامات) اب کارگر نہیں رہے۔ تقریباً آٹھ ماہ کی جنگ کے بعد ایک ایسا تنازعہ جس میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے اعلانیہ طور پر بیان کردہ کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔اب تک تو یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہیے۔
ایران کی قدیم تہذیب کسی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گی
چونکہ ہم ایک بار پھر ایک انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں، اس لیے میں یہ تنبیہ کرنے پر مجبور ہوں کہ آبنائے ہرمز یا خطے میں کہیں بھی کشیدگی میں مزید اضافہ عام شہریوں کی زندگیوں، خطے کی تمام اقوام کی فلاح و بہبود اور سلامتی، نیز عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گا۔ ماضی کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے، اور مستقبل بھی بلاشبہ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ اگر امریکہ ایک بار پھر سفارت کاری کے بجائے فوجی کارروائی کا راستہ چنتا ہے، تو میں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا نتیجہ کہیں بڑی اسٹریٹجک شکست کی صورت میں نکلے گا۔ ایران ایک قدیم اور باوقار تہذیب کا حامل ملک ہے جو کسی بھی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
اس کے باوجود، اگر امریکہ کی جانب سے کسی منصفانہ اور باعزت حل تک پہنچنے کی مخلصانہ خواہش کے واضح شواہد سامنے آتے ہیں۔ جس کا مقصد اس تنازعے کا مستقل خاتمہ ہو، تو ایران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے جب اس تنازعے کا آغاز کیا تھا تو ایران کے حوالے سے ان کا اندازہ غلط تھا۔ موجودہ حالات میں اس غلطی کو دہرانے کے نتیجے میں کہیں زیادہ تلخ نتائج برآمد ہوں گے۔



