◷

لامرد میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال

13 اکتوبر 2026

 امریکا اور صیہونی حکومت  کے حملوں میں ایران کے شہر لامرد میں ممنوعہ ہتھیاروں کا تجربہ کیا گیا ہے

 نیوز ایجنسی ارنا کے سی ای او حسین جابری انصاری نے منگل کو شہر لامرد کے ان علاقوں کا معائنہ کیا جو امریکا اور صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں ممنوعہ ہتھیاروں کا نشانہ بنے تھے۔

 انھوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ شہر ان ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنایا گیا جنہیں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔

ارنا چیف حسین جابری انصاری نے کہا کہ یہ امریکا اور صیہونی حکومت کی مجرمانہ پالیسیوں کی عینی تصویر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے لئے ضروری ہے کہ ان واقعات کو دستاویزی ثبوت کے ساتھ بیان کریں ۔

حسین جابری انصاری نے کہا کہ انہیں آج  شہر مقاومت لامرد کے عوام سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی ہے جو امریکا اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ میں وحشیانہ طور پر ممنوعہ بموں کا نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ امریکی اور صیہونی جارحیت میں اس ایک شہرکے بچوں، بوڑھوں اور نہتے شہریوں پر ایک ساتھ 7 لاکھ 20 ہزار بموں کے ٹکڑوں کی بارش کی گئی ۔

 ارنا کے سی ای او نے ایک پوری قوم کی موت کے گھاٹ اتارنے کے بارے میں ٹرمپ کی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لامرد میں جو کچھ ہوا ہے، وہ ٹرمپ کے اس بیان سے تعلق رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ وحشیانہ حملہ، امریکی صدر کے اس بیان کی عملی ترجمانی کرتا ہے۔
 حسین جابری انصاری نے مزید کہا کہ یہ جنوبی ایران، صوبہ فارس کے جنوب میں واقع شہر لامرد ہے ۔ یہ تاریخی شہر ہے جس کو امریکا اور صیہونی حکومت نے ممنوعہ بموں کی تجربہ گاہ بنایا اور عوام پر وہ بم برسائے جنہیں بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جرائم پیشہ دشمن نے اس شہر کے کھیل کود کے مراکز اور رہائشی علاقوں  پر بمباری  اور عوام کے قتل عام کا ارتکاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے