"موت کی ناگزیریت” انسانی زندگی کی قدر و قیمت گھٹانے کا جواز نہیں بن سکتی: ایرانی وزیر خارجہ کے ترجمان کا ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل
ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے نتائج کے بارے میں امریکی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ موت کی ناگزیریت انسانی مصائب کو نظر انداز کرنے اور زندہ لوگوں کی زندگیوں کی قدر و قیمت میں کمی کا جواز نہیں بن سکتی۔
"اسماعیل بقائی” نے جمعرات 29 اکتوبر کو اپنے ایکس پیغام میں، امریکی صدر کے انٹرویو کا ایک حصہ دوبارہ شائع کرتے ہوئے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے نتائج پر بے حسی کا اظہار کیا تھا، لکھا کہ "آخر میں ہم سب مر جائیں گے، لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔” یہ جملہ کوئی روایتی سیاسی بیان نہیں ہے ؛ یہ البرٹ کامیو (Albert Camus) کے ڈرامے ‘کیلیگولا’ (Caligula) کے عالمی نظریے کی عکاسی کرتا ہے— وہ لمحہ جب وجودی بے معنی پن (existential absurdity) ظلم و استبداد میں بدل جاتا ہے—جہاں ‘موت کا اٹل ہونا’ زندہ لوگوں کی زندگیوں کی اہمیت کم کرنے کا جواز بن جاتا ہے۔”
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ کیلیگولا کا استدلال یہ تھا کہ چونکہ اسے مرنا ہی ہے، اس لیے دوسروں کی تکالیف کی کوئی اہمیت نہیں، مزید کہا کہ "آج کی دنیا اور قدیم روم کے درمیان فرق طاقت کے استعمال کے آلات کا ہے؛ کیلیگولا کے پاس صرف قدیم روم کے ابتدائی (قدیم) آلات تھے، جبکہ ‘جدید نِہلزم’ (modern nihilism) کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔”
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی خطرہ وہ رہنما نہیں ہے جو اپنی موت کی حقیقت کا سامنا کرتا ہے؛ بلکہ خطرہ حکمرانی کی اس شکل میں مضمر ہے جو ‘موت کے اٹل ہونے’ کو انسانی تکالیف کے تئیں بے حسی کی بنیاد اور لوگوں کو ان کے حقِ حیات سے محروم کرنے کا جواز بنا دیتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "ہم سب مر جاتے ہیں” ایک حقیقت ہے؛ لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ "لہٰذا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا” وہی جست ہے جو وجودی خوف کو ایک تباہ کن سیاسی ہتھیار میں بدل دیتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے نشاندہی کی کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اطاعت کے ذریعے کسی ‘کیلیگولا’ کو خوش کر سکتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حماقت اور عدمیت (nihilism) کسی قانون یا قاعدے کی پرواہ نہیں کرتیں، اور یہ کہ خوشامدانہ مفاہمت محض اس لمحے کو مؤخر کرتی ہے جب خود مفاہمت کرنے والے ہی اس کا شکار بن جاتے ہیں۔



