ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے نمائندے نے استفسار کیا ہے کہ اگر جنرل اسمبلی نے 1970 کی دہائی میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست کو خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی تو آج اس مجرم کو یہ حق کیوں دیا جارہا ہے؟
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کے تھرڈ سیکریٹری ناصر اسدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ہرزہ سرائي کا جواب دیتے ہوئے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گيا ہے کہ” یہ تنظیم آئندہ نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ تاہم، آج اس لعنت کے اصل معمار، اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم نے اس اسمبلی میں خطاب کیا۔ یہ اقدام اس ادارے کے لیے بہت بڑی رسوائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجرم نیتن یاھو کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کی اجازت دینا اقوام متحد کے چارٹر میں درج تمام اعلی قدروں جسے انصاف، مساوات، انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔یہ انسانیت کے اصولوں اور انسانی ضمیر کی سب سے بڑی توہین ہے۔ یہ اس تنظیم کے اہداف اور اصولوں کے ساتھ گہری خیانت ہے۔ اقوام متحدہ کا قیام امن اور انصاف کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا، نہ کہ جنگی مجرموں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے نہیں۔
ایران کے نمائندے نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کے اجراء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جس کے خلاف مقدمہ اس وقت دو بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ارتکاب کے جرم میں زیر سماعت ہے، اسے اس فورم پر آنے کی اجازت دی جائے؟ کیا اسے اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لیے یہاں ہونا چاہیے یا نسل کشی کے مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں؟
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اقوام متحدہ کے اپنے جائزے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے دو سال سے بھی کم عرصے میں غزہ کے عوام پر 2 لاکھ ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد گرایا ہے جو کہ ہیروشیما پر حملہ کرنے والے تقریباً 13 ایٹمی بموں کی دھماکوں کی طاقت کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج، اس حکومت کے وزیر اعظم نےجنرل اسمبلی کو بتایا کہ اس نے تقریباً 75 ہزار فلسطینی شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، اور تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار دیگر کو صرف اس لیے زخمی کیا کہ "اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا!”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان جرائم اور مظالم جیسے کہ اجتماعی سزا، نسلی تطہیر، اور بھوک کو جنگ ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے فیصلے کو بہت ہلکے سے لیا گیا! یہ معلومات ایران کا دعویٰ نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت انجام پانے والی عدالتی تحقیقات اور دستاویزی شواہد کا نتیجہ ہیں۔
اسدی کے مطابق جنوری 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف اور ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں نسل کشی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ ایسے بدنام زمانہ مجرم کو بولنے کا پلیٹ فارم کیسے فراہم کر رہی ہے؟
ایرانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطینی عوام کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے جب امریکی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کے قائدین کو یہاں بولنے سے روکا گیا ہے، لیکن 75 ہزار فلسطینیوں کے قتل کے ذمہ دار مجرم کو اپنا پوڈیم دے دیا؟ اور اس سے بھی بڑھ کر، اسمبلی اقوام متحدہ کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی پر تنظیم کے چارٹر کے آرٹیکل 6 کے تحت اس حکومت کو اقوام متحدہ سے نکال کیوں نہیں دیتی؟
انہوں نے ہیگ کی عدالت کی طرف سے نیتن یاہو کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کے اجراء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی مجرم کو اس اسمبلی میں حاضر ہونے کی اجازت دینا بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے منافی ہے۔ وہ نہ تو مثالی نعرے ہیں اور نہ ہی ان کا اطلاق صرف اس کے چند ارکان پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ پابند اصول، جو بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد شمار ہوتے ہیں، اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلسل، جان بوجھ کر، منظم اور ادارہ جاتی طور پر ان کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔ صیہونی حکومت کے وزیراعظم خود کو مظلوم ظاہر کرکے نسل کشی کر رہے ہیں۔ یہ منافقت کی واضح مثال ہے۔ یہ ایسا ہی جیسے وہ اپنی فوج کو "دنیا کی سب سے اخلاقی فوج” کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کر تے ہیں۔
ایران کے نمائندے نے کہا کہ یقیناً ان (نیتن یاہو) کے لیے یہ بالکل فطری ہے، کیونکہ منافقت، ظلم، تحریف اور غلط معلومات اس کی فطرت میں شامل ہے، جس طرح بچوں کا قتل، گھروں پر وحشیانہ بمباری کرکے لوگوں کا قتل عام، اور نسل کشی اس کی فطرت میں شامل ہے۔ تاہم، وہ اپنے جرائم کو مٹا نہیں سکتا۔ اس کے الفاظ، اس کے اعمال کو دھو نہیں سکتے، عدالتوں کے نتائج اور احکامات کو کالعدم نہیں کرسکتے، اور اس کے مجرمانہ ریکارڈ کو صاف نہیں کرسکتے۔
اسدی نے کہا کہ تاریخی نقطہ نظر سے، غاصبانہ قبضہ جمانا ان کے ڈی این اے میں شامل ہے، عصمت دری ان کے خون میں رچی بسی ہے، دہشت گردی ان کی فطرت کا حصہ ہے، نوزائیدہ بچوں کا قتل ان کی عادت ہے، لوگوں کے گھروں پر بڑے پیمانے پر بمباری اور ان کے گھروں کو مسمار کرنا ان کی دیرینہ روایت ہے، نسل پرستی ان کا قائم کردہ رواج ہے، جنگی جرائم ان کی تفریح ہے، نسل کشی ان کے مقبول ترین عمل ہے، انسانی حقوق کی پامالی سب سے زیادہ پسندیدہ کام ہے۔ جھوٹ فریب اور مظلومیت ظاہر کرنا ان کی حکمت عملی، اور صیہونیت ان کا ریاستی منشور ہے۔
انہوں نے کہا: ” ایک نام نہاد گریٹر اسرائیل کا قیام ان کا خیالی مقصد ہے۔ اس مقصد کے لیے، وہ چاروں بڑے بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے: عصمت دری، نسل کشی، جنگی جرائم، اور انسانیت کے خلاف جرائم، منظم طریقے سے، بیک وقت، اور وحشیانہ تشدد۔ پچھلے دو برس میں غزہ، لبنان اور ہمارے خطے کے دیگر حصوں میں اس کے وحشیانہ جرائم اسرائيل کے ان گنت جرائم کا محض چھوٹا سا حصہ ہیں۔



