لبنان حکومت اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ
مکمل متن اور تنقیدی جائزہ
لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان “تین فریقی فریم ورک معاہدہ” کا اردو ترجمہ
اسرائیل اور ریاستِ لبنان، ریاستہائے متحدۂ امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں)، پائیدار امن اور مستقل سلامتی کے حصول کے اپنے مشترکہ مقصد پر زور دیتے ہیں۔ اس تین فریقی فریم ورک میں بیان کردہ اصولوں اور مستقبل کے معاہدوں کی بنیاد پر دونوں فریق توقع ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے درمیان دشمنی اور تنازعات کا خاتمہ کریں گے، دونوں ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنائیں گے اور حسنِ ہمسائیگی اور پُرامن تعلقات قائم کریں گے۔
1۔ اسرائیل اور لبنان ہر فریق کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ امن کے ساتھ زندگی گزارے اور دونوں خودمختار ہمسایہ ریاستوں کے طور پر باہمی سلامتی کے ساتھ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس فریم ورک کے تحت دونوں فریق اپنے درمیان جاری تنازعے کے حتمی خاتمے، اس کی بنیادی وجوہات کے حل اور دونوں کے درمیان موجود کسی بھی جنگی کیفیت کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تین فریقی فریم ورک دونوں فریقوں کے درمیان کئی ادوار کی براہِ راست مذاکرات کے بعد حاصل ہوا ہے اور سابقہ کامیاب معاہدوں اور مفاہمتوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں فریق باقی تمام حل طلب مسائل کے جامع حل کی طرف ناقابلِ واپسی پیش رفت کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریق اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو دو خودمختار فریقوں کے طور پر براہِ راست دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، جن میں امریکہ ثالث اور معاون کا کردار ادا کرے گا۔
2۔ اسرائیل اور حکومتِ لبنان ایک باہمی اور مرحلہ وار عمل کے پابند ہوں گے جس کے واضح مراحل اور شرائط ہوں گے۔ اس عمل کے تحت، جب لبنانی فوج غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے ڈھانچے کو ختم کرنے کی تصدیق کر دے گی تو لبنان اپنی پوری سرزمین پر مؤثر خودمختاری قائم کرے گا۔ اس کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کو مرحلہ وار لبنان کی سرزمین سے باہر منتقل ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ اس عمل کی تفصیلات ایک سکیورٹی ضمیمہ میں بیان کی جائیں گی جو امریکہ کی مکمل حمایت سے تیار کیا جائے گا اور اس تین فریقی فریم ورک کی تکمیل کرے گا۔ یہ فریم ورک اس عمل کے لیے ضروری اقدامات، سکیورٹی انتظامات اور تصدیقی نظام کی وضاحت کرے گا۔ اس فریم ورک کا کامیاب نفاذ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار اور پُرامن تعلقات کی راہ ہموار کرے گا اور اسرائیلی افواج کو لبنان سے باہر تعینات ہونے کے قابل بنائے گا۔
3۔ سکیورٹی ضمیمہ کے مطابق اور لبنان میں اسلحے کی مکمل اجارہ داری ریاست کے ہاتھ میں دینے کی وسیع کوشش کے حصے کے طور پر، لبنانی فوج بتدریج مخصوص “آزمائشی علاقوں” میں مکمل اور مؤثر سکیورٹی ذمہ داری سنبھالے گی۔ یہ علاقے اسرائیلی دفاعی افواج اور لبنانی فوج کی مرحلہ وار اور تصدیق شدہ تعیناتی کے نظام کے طور پر کام کریں گے۔ دونوں افواج دو ابتدائی آزمائشی علاقوں پر متفق ہو چکی ہیں اور مزید علاقوں کا تعین باہمی اتفاق سے کیا جائے گا۔ جب ان علاقوں میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کو کامیابی سے غیر مسلح کرنے اور ان کے ڈھانچے ختم کرنے کی تصدیق ہو جائے گی تو لبنانی فوج مکمل سکیورٹی ذمہ داری سنبھال لے گی۔ اس کے بعد بین الاقوامی حمایت سے تعمیرِ نو شروع ہوگی اور لبنانی شہری لبنانی ریاستی اداروں کی مکمل نگرانی میں محفوظ طریقے سے واپس آ سکیں گے۔ امریکہ اس عمل کی نگرانی، تصدیق اور حمایت کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔
4۔ حکومتِ لبنان اپنی سرزمین پر مکمل خودمختاری بحال کرنے اور نافذ کرنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ لبنان ریاست کے ہاتھ میں طاقت کے استعمال کی مکمل اجارہ داری بحال کرے گا اور تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو مکمل اور قابلِ تصدیق طریقے سے غیر مسلح کرے گا تاکہ وہ لبنان میں کہیں بھی کوئی عسکری یا سکیورٹی کردار ادا نہ کر سکیں۔ اس فریم ورک کے تحت لبنان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں خصوصاً عرب شراکت داروں اور امریکہ سے اس مقصد کے حصول کے لیے تعاون طلب کرتا ہے۔
5۔ اسرائیل اس بات پر زور دیتا ہے کہ لبنان میں اس کی فوجی کارروائیاں صرف اسرائیل پر حملوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے ردعمل میں تھیں۔ اسرائیلی کابینہ کا کہنا ہے کہ اگر ان گروہوں کو پورے لبنان میں غیر مسلح کر دیا جائے اور ان کے ڈھانچے ختم کر دیے جائیں، اور دونوں فریق مزید سکیورٹی انتظامات پر متفق ہو جائیں، تو مستقبل میں اسرائیلی فوج کی لبنان میں کسی بھی فوجی کارروائی یا موجودگی کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اسرائیل اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اسے لبنان میں کسی علاقائی توسیع یا زمین حاصل کرنے کی خواہش نہیں ہے۔
6۔ لبنان کی حکومت اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ لبنان کی سلامتی اور دفاع کی مکمل ذمہ داری صرف اس کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے پاس ہوگی اور جنگ یا امن کے فیصلے کا اختیار صرف ریاستِ لبنان کے پاس ہے۔ لبنان کسی بھی ریاست یا غیر ریاستی فریق کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ وہ لبنان کی جانب سے طاقت استعمال کر سکتا ہے، جب تک کہ اسے لبنان کی حکومت کی واضح اجازت حاصل نہ ہو۔ لبنان دوبارہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کوئی بھی غیر ریاستی یا بیرونی فریق اگر فوجی یا سکیورٹی کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرے تو وہ غیر قانونی اور لبنان کے قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔
7۔ لبنان اور اسرائیل اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ یہ فریم ورک اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تسلیم شدہ ان کے حقِ دفاع کو محدود نہیں کرتا۔ دونوں فریق اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کوئی تیسرا فریق ان کی جانب سے یہ حق استعمال نہیں کر سکتا۔ دونوں ممالک امریکہ کی حمایت اور شمولیت سے ایک مشترکہ فوجی رابطہ گروپ قائم کرنے پر بھی متفق ہیں تاکہ اس فریم ورک کے مکمل نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
8۔ دونوں فریق ایک محفوظ اور دوبارہ تعمیر شدہ لبنان کے مشترکہ مقصد پر زور دیتے ہیں جو مکمل طور پر لبنانی ریاست کی خودمختاری کے تحت ہو اور جہاں کوئی غیر ریاستی مسلح گروہ اسرائیل، لبنان یا دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔ جنوبی لبنان میں سلامتی کی بحالی، لبنانی فوج کی تعیناتی، شہریوں کی محفوظ واپسی اور شمالی اسرائیل کی آبادی کی سلامتی کو طویل مدتی استحکام اور امن کے لیے ضروری عناصر قرار دیا گیا ہے۔
9۔ لبنان ایک مضبوط اور نتائج پر مبنی پروگرام نافذ کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد لبنانی فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ پورے لبنان میں سکیورٹی اور فوجی کنٹرول قائم کر سکے، غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرے اور ریاستی اختیار کو پورے ملک میں نافذ کرے۔ امریکہ اس عمل کی حمایت کرے گا، تاہم امریکی امداد کو واضح شرائط، شفافیت، قابلِ تصدیق پیش رفت اور مسلسل نگرانی سے مشروط رکھا جائے گا۔
10۔ امریکہ بین الاقوامی شراکت داروں کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لبنان کی تعمیرِ نو، بنیادی ڈھانچے کی مرمت، معیشت کی بحالی اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اس میں تعمیرِ نو کی بڑی مالی امداد، انسانی امداد، معاشی بحالی کے پروگرام اور سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔
11۔ لبنان اور امریکہ اس بات کے پابند ہوں گے کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں سے وابستہ کسی بھی ادارے، تنظیم یا فرد تک مالی وسائل پہنچنے سے روکیں اور ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے تمام قانونی اقدامات کریں۔ لبنان اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ تعمیرِ نو کے فنڈز ان گروہوں تک نہیں پہنچیں گے۔
12۔ اس فریم ورک پر دستخط کے فوراً بعد دونوں فریق جامع امن اور سلامتی کے مکمل معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کریں گے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کی سہولت کاری کے ساتھ براہِ راست اور مسلسل مذاکرات کے متوازی راستے بھی شروع کیے جائیں گے۔
13۔ پائیدار اور پُرامن تعلقات کے قیام کے مقصد کے تحت دونوں فریق خیرسگالی کے اقدامات کریں گے، جن میں بین الاقوامی سیاسی یا قانونی فورمز میں ایک دوسرے کے خلاف منفی اقدامات کو روکنا، لاپتہ افراد یا باقیات کی تلاش اور واپسی کی کوششیں اور زیرِ حراست افراد کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔
14۔ دونوں فریق کئی دہائیوں کے تنازعے کو ختم کرنے اور مستقل استحکام و جامع امن قائم کرنے میں امریکہ کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور وژن پر گہری قدردانی کا اظہار کرتے ہیں۔
عرب تجزیہ نگار عطوان الباری کا تبصرہ
عبدالباری عطوان نے روزنامہ رأی الیوم میں لکھا:
یہ کوئی لبنانی–اسرائیلی معاہدہ نہیں بلکہ صہیونی چال ہے۔ لبنانی حکومت کا کردار صرف اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے تک محدود ہے۔ یہ اقدام نہ جنگ کو روکے گا اور نہ امن قائم کرے گا، بلکہ تنازعے کی آگ کو مزید بھڑکائے گا اور اسے ہوا دے گا۔ وجہ سادہ ہے: جن لوگوں نے اس پر دستخط کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ لبنانی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ جنگ میں فریق ہیں، وہی اسے روک سکتے ہیں۔ اتنے خطرناک معاہدے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے، جو نہ حاصل ہوا ہے اور نہ ہوگا۔
اس تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ ایرانی–لبنانی تعلق نے اسرائیلیوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ حکومت، جو ایران کے خلاف جنگ میں ناکام ہوئی، ایران اور لبنان کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کے لیے تیزی سے متحرک ہوئی اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک تابع لبنانی حکومت کو استعمال کیا، جس نے خود کو اسرائیل اور امریکہ کے آغوش میں ڈال دیا ہے۔
عطوان نے زور دے کر کہا:
یہ کوئی امن معاہدہ نہیں بلکہ لبنان، اس کی جغرافیائی اور قومی وحدت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور اس کے شہریوں کے باہمی بقائے باہمی کے قلب پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ ایسا معاہدہ ہے جو ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گا، جس میں اس بار اسرائیلی اور امریکی افواج متحد ہوں گی، اور شاید ایک تیسری فوج جسے “عبوری” شامی فوج کہا جا رہا ہے، بھی اس میں شامل ہو جائے۔
عطوان کے مطابق اس کا اصل ہدف لبنان کی مزاحمت کی قیادت ہے، جس کی ریڑھ کی ہڈی حزب اللہ ہے، جو ان کے بقول پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ لبنانی منظرنامے میں واپس آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر یحیئیل لیٹر نے کہا:
“اس معاہدے کے ذریعے ایران اور حزب اللہ کو مساوات سے خارج کر دیا جائے گا”،
جبکہ ان کے رہنما بنیامین نیتن یاہو نے کہا:
“جب تک حزب اللہ موجود ہے اور مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوتی، اسرائیل سکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
بین الاقوامی امور کے اس تجزیہ نگار نے لکھا:
یہ لوگ کہاں رہتے ہیں؟ کیا انہوں نے عبرانی یونیورسٹی کے سروے نہیں پڑھے جن میں 92 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو شکست دی ہے؟ اور وہ امریکی سروے جن میں 86 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ ایران نے اسرائیل کو شکست دی ہے؟ یہ لوگ واقعی ایران، حزب اللہ، غزہ کی فلسطینی مزاحمت یا یمن میں انصار اللہ کو نہیں جانتے۔ مختصر یہ کہ یہ ایک غداری پر مبنی معمول پر لانے (نارملائزیشن) کا معاہدہ ہے جس پر ایک “لبنانی” حکومت نے دستخط کیے ہیں۔
عطوان نے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ صورتِ حال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی اور عسکری مساوات مضبوط فریق کے حق میں بدل رہی ہیں اور امریکہ و اسرائیل اب آخری فیصلہ کرنے والے نہیں رہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ لبنان کی مزاحمت، جس نے دو مرتبہ اسرائیل کو شکست دی—پہلی بار سن 2000 میں جب پورا جنوبی لبنان آزاد کرایا گیا، اور دوسری بار 2006 میں جب اسرائیل کی “ناقابلِ شکست” فوج کو شکست دے کر اسے رسوا کیا گیا—اب بھی موجود ہے اور دن بدن زیادہ مضبوط اور مستحکم ہو رہی ہے، اور اسے ایک اسلامی ملک اور متحد محاذوں کی حمایت حاصل ہے جو صرف شہادت کو جانتے اور اسی کی تمنا رکھتے ہیں۔
عطوان نے مزاحمت سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ لبنانی حکومت سے علیحدگی اختیار کرے اور لکھا:
اس حکومت میں ایک لمحہ بھی رہنا مزاحمت کے لیے باعثِ عزت نہیں۔ مزاحمت کے مجاہدین اور اس کے سپاہی جائز اور باوقار ہیں، نہ کہ وہ لوگ جو نارملائزیشن اور غداری کے معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں۔