ایران کیخلاف جاری جنگ فی الفور بند کی جائے، آسیان فورم

2.jpg

2.jpg

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے رہنما فلپائنی جزیرے، صوبہ سیبو میں اپنے سالانہ سربراہی اجلاس کے لئے ایک ایسی حالت میں جمع ہوئے کہ جب وہ ایران کیخلاف جاری جنگ کے باعث اپنے عوام و ملکی معیشتوں پر گہری اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ میں تھے۔ رپورٹ کے مطابق، اسی وجہ سے فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے مشکل عالمی اقتصادی صورتحال کی عکاسی کرنے کے لئے، سابقہ روایات کو توڑتے ہوئے اس مرتبہ آسیان سربراہی اجلاس کو رسمی شان و شوکت کے بغیر ہی سادہ انداز میں منعقد کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس موقع پر، رہنماؤں کے خدشات ان کے اس فیصلے سے ظاہر ہو رہے تھے کہ وہ اپنی بات چیت کو ہنگامی منصوبہ جات پر ہی مرکوز کریں گے کہ جس کا مقصد تیزی کے ساتھ نمو پاتے اس خطے کے لئے ایک ایسی حالت میں ایندھن اور خوراک کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا ہے کہ جب یہ خطہ اپنا زیادہ تر تیل اور گیس مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے۔ اس دوران آسیان رہنماؤں کے لئے ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ اگر وسیع پیمانے پر لڑائی پھر سے بھڑک اٹھی تو مغربی ایشیا میں کام کرنے اور زندگی گزارنے والے اپنے 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو کیسے واپس بلایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق آسیان کے سینئر عہدیداروں نے جنگ کے مزید جاری رہنے سے متعلق کسی بھی قسم کی مایوسی کا اظہار کرنے سے گریز کیا تاہم تھائی وزیر خارجہ سیہاساک پونگکیٹائیو زیادہ دو ٹوک بولے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک مختصر انٹرویو دیتے ہوئے کہنے لگے: "یہ جنگ بالکل بھی شروع نہیں ہونی چاہیئے تھی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام آسیان ممالک اس صورتحال پر تشویش کا شکار اور فکر مند ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس جنگ کے مقاصد کیا ہیں.. ایسا لگتا ہے کہ امن مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں.. لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ جنگ سرے سے ختم ہی ہو جائے! تھائی وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے محفوظ گزر جانے کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے