◷

پزشکیان: اسلامی ممالک میں اتحاد کی ضرورت

26 اکتوبر 2026

پزشکیان: ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے والے ہر سمجھوتے کی حمایت کرتا ہے

صدر پزشکیان نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اہم سیکورٹی عہدیداروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران ہر اس سمجھوتے کی حمایت کرتا ہے جو اسلامی ممالک کے اتحاد و یکجہتی پر منتج ہو۔

صدر پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پختہ یقین اور سنجیدہ عزم کے ساتھ علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے، اختلافات دور کرنے اور اسلامی ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے اور ایسے ہر سمجھوتے کی حمایت کرے گا جو خطے میں اتحاد، یکجہتی، سلامتی اور ترقی کو مضبوط بنانے کا باعث بنے۔

ایوان صدر سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے پیر26 اکتوبر 2026 کی سہ پہر سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالین سے ملاقات میں اسلامی ممالک کے درمیان ان ملاقاتوں اور مذاکرات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے عالم اسلام کی بنیادی مشترکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا عقیدہ اور یقین ہے کہ اسلامی ممالک کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کی بنیاد پر اخوت اور اتحاد کے اصول کو اپنے تعلقات کی بنیاد بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انھیں مسلم اقوام کو نشانہ بنانے والے خطروں اور اقدامات کے خلاف ایک متحد قوت کی طرح کھڑے ہونا چاہیے۔ اگر ہم اس بنیادی اصول کو اپنے باہمی تعلقات کی بنیاد بنائیں تو اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور مسائل پیدا ہونے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

صدر پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے کے سلسلے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چودھویں حکومت نے اپنے آغاز ہی سے عالم اسلام کے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں کے دوران ہمارا خطہ صیہونی حکومت کی جانب سے پرتشدد اقدامات اور وسیع پیمانے پر جرائم کا شاہد رہا ہے۔ یہ حکومت ریاستی دہشت گردی اور امریکا کی حمایت سے خطے میں متعدد جرائم کا ارتکاب کرتی ہے اور ساتھ ہی دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات بھی عائد کرتی ہے۔

پزشکیان نے غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر ممالک میں صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان جارحیتوں کا دائرہ اسلامی جمہوریہ ایران تک بھی پھیل گیا اور حملوں کے دوران ہمارے رہبر، کمانڈروں، سائنس دانوں اور یہاں تک کہ اسٹوڈنٹس کو بھی شہید کردیا گیا۔ ان اقدامات کا کوئی قانونی، انسانی یا عقلی جواز نہیں ہے۔ یہ صورت حال جارحیت اور عدم تحفظ کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت کو پہلے سے زیادہ واضح کرتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے ایران کے خلاف اپنے اہداف کے حصول میں دشمنوں کی ناکامی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ وہ دباؤ اور جارحیت کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کا شیرازہ بکھیر سکتے ہیں لیکن ان اقدامات کا نتیجہ داخلی اتحاد اور یکجہتی کی مضبوطی اور ایرانی قوم کی یکجہتی میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ ہمارے عوام نے مسلط کردہ نقصانات اور مشکلات کے باوجود پوری قوت اور استقامت سے اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔ یہ تصور پوری طرح غلط اور باطل ہے کہ ایرانی قوم کو جھکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ضوابط کے دائرے میں اپنے قانونی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے اور انھی اصولوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی قوم کے جائز حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔ اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری سمجھوتوں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ ان ملاقاتوں اور اجلاسوں میں ہونے والا ہر سمجھوتہ، جو اتحاد، یکجہتی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گا، اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی سنجیدہ اور ہمہ جہت حمایت حاصل ہوگی۔ ہمیں مشترکہ نکات اور تعاون کے امکانات پر توجہ دینی چاہیے اور اختلاف رائے کو خطے کی اقوام کے مشترکہ مفادات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی داخلی صلاحیتوں اور عوام و رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران داخلی کوششوں، عوام کی حمایت اور رہبر انقلاب اسلامی کی رہنمائی کے سہارے مشکلات سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا راستہ طے کرے گا۔ بلاشبہ اسلامی ممالک کو یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کی سلامتی اور مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ خطے کے کسی بھی بڑے ملک کو کمزور کرنا دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف دباؤ اور خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

پزشکیان نے جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں تہران کے اصولی موقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے اپنے بین الاقوامی حقوق اور ذمہ داریوں کے دائرے میں جوہری سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ایران اسی بنیاد پر پُرامن جوہری سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی ضوابط کے تحت ان حقوق کا احترام کیا جائے گا۔ انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں دوہرے معیار پر مبنی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاملے کو دباؤ اور دھمکیوں، جوہری تنصیبات پر حملوں اور مذاکرات کے لیے آمادگی کے دعووں کا بہانہ بنانا اور اسی وقت ایران پر حملہ کرنا ایک متضاد اور غیر تعمیری طرز عمل ہے۔ اس سے عوامی اعتماد کمزور ہوا ہے اور ایرانی حکام و عوام میں بداعتمادی بڑھی ہے۔

صدر مملکت نے خطرات کا مقابلہ کرنے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے اسلامی ممالک کے اتحاد اور مشترکہ اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں تو دشمن اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کرسکیں گے۔ باہمی ہمدردی اور تعاون کے ذریعے ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہدایات پر عمل کرنے اور عزت، انصاف اور انسانی وقار سے آراستہ معاشرے تعمیر کرنے کی راہ پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر ہم خدائے بزرگ و برتر کی راہ میں کوشش کریں گے تو وہ بھی ہمیں راستہ دکھائے گا اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے اسباب فراہم کرے گا۔

پزشکیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کے پیچھے اسلامی جمہوریہ ایران کا مقصد اخوت، یکجہتی اور امت مسلمہ کی عزت کو مضبوط بنانا ہے، کہا کہ ہمارا ہدف اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنا، خطے کے مسلمانوں کی عزت اور سربلندی کو یقینی بنانا اور مظلوم و مسلمان اقوام کے خلاف صیہونی حکومت کی حیوانیت اور جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مشترکہ عزم، یکجہتی اور اسلامی ممالک کے تعاون کی بنیاد پر ان جرائم کو روکنے اور خطے میں امن، سلامتی اور انصاف قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے