مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی عالمی سپلائی کو لاحق خطرات کے باعث سرمایہ کاروں اور تاجروں کی توجہ خطے کی صورتحال پر مرکوز ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کی صبح کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی قیمت 89 سینٹ، یعنی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 106.58 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 80 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد بڑھ کر 94.94 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اس سے ایک روز قبل منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا رجحان ملے جلے انداز میں رہا تھا۔ کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 0.4 فیصد بڑھ گئی تھی۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے اثرات
رپورٹ کے مطابق تیل کے تاجروں کی توجہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں پر مرکوز ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی ترسیل اور عالمی منڈی میں دستیابی متاثر ہونے کے خدشات قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودی وزارت توانائی کے مطابق حوثی گروپ نے شہر ظہران میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ لگ گئی۔
روسی ڈیزل کی ممکنہ سپلائی بھی زیرِ غور
تاجروں کی نظر روس سے ڈیزل کی ممکنہ اضافی دستیابی پر بھی ہے۔ اگر روسی ڈیزل کی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے عالمی توانائی منڈی میں رسد اور قیمتوں کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال، تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور متبادل سپلائی کے امکانات آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے رجحان پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔



