بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج کو نوبل امن انعام پر صیہونی حکومت چراغ پا
صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے سن 2026 کا نوبل امن انعام بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج ناوی پلائے کو دیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور دعوی کیا کہ اگر "جھوٹ، نفرت اور خونین بہتان” کے لیے کوئی انعام ہوتا تو پلائے نہ صرف نامزد بلکہ اس کے سب سے زیادہ ممکنہ حقدار ہوتے ۔
صیہونی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں 2026 کا نوبل امن انعام بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج "ناوی پلائے” کو دیے جانے کو غلط فیصلہ قرار دیا اور پلائے پر اسرائیل کے خلاف "جھوٹ، نفرت اور خونین بہتان” پھیلانے کا الزام لگایا۔
صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ نے کہا: "اگر جھوٹ، نفرت اور خونین بہتان کے لیے کوئی انعام ہوتا، تو ناوی پلائے صرف ایک نامزد امیدوار نہ ہوتیں، بلکہ اس کی سب سے زیادہ ممکنہ حق دار ہوتیں۔ "
صہیونی حکومت کی وزارت خارجہ نے ناوی پلائے کے اسرائیل کے خلاف الزامات کو یہودی ریاست کو بدنام کرنے کی سیاسی مقصد سے چلائی جانے والی مہم کا حصہ قرار دیا۔
ایسے حالات میں کہ غزہ میں صہیونی حکومت کے جرائم کی عالمی سطح پر مذمت ہو رہی ہے، اسرائیلی حکومت کی وزارت خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ یہ انعام ایک ایوارڈ کا شرمناک ناجائز استعمال ہے تاکہ نفرت کو قانونی حیثیت دی جائے اور اسرائیل کے مخالفین کی حمایت کی جائے۔
صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ایک الگ بیان میں 2026 کا نوبل امن انعام بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج ناوی پلائے کو دیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا: میں صدر ٹرمپ اور وزير خارجہ روبیو کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کے ان کے ٹھوس فیصلے پر ان کی تعریف کرتا ہوں۔
واضح رہے سن 2026 کا نوبل امن انعام جمعہ کے روز جنوبی افریقا کی قانون کی ماہر ناوی پلائے کو دیا گیا، جو اقوام متحدہ سے وابستہ ایک کمیٹی کی سربراہی کر رہی تھیں اور جنہوں نے صہیونی حکومت پر غزہ میں "نسل کشی” کے ارتکاب کی فرد جرم عائد کی تھی ۔
ناروے کی نوبل کمیٹی نے اس سلسلے میں امن اور بین الاقوامی قانون کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔
دوسری طرف امریکا نے 2026 کے نوبل امن انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد اس ادارے کے خلاف وسیع پابندیاں عائد کر دیں۔



