تاریخ مسخ کرنے کی امریکی کوشش پر وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل
وزارت خارجہ کے ترجمان نے مارکو روبیو کی تاریخ کو مسخ کرنے اور امریکہ کی جنگ بندی کے لیے فلسفیانہ تاریخی جواز پیدا کرنے کی کوشش پر ردعمل کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں یونان کے شہر ایتھنز میں ایک تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایران کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کے جواب میں لکھا کہ مارکو روبیو ایکروپولیس میں نے ایک مسخ شدہ بیانیہ پیش کر کے مغرب کی تاریخ کو – قدیم یونان سے لے کر ٹرمپ کے امریکہ تک – کو ایک سیدھی اور متحد لکیر تک پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے مارکو روبیو کے بیان میں خلط زمان یا اناکرونیزم کی کھلی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونان، روم، عیسائیت، یورپ، امریکہ اور آخر میں "سب سے پہلے امریکہ” جیسے تصورات کو اناڑی طور پر ملا کر تاریخی کی تحریف کرنا، گویا امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کاؤ بوائے زبان سے برہنہ غنڈہ گردی کرنے کے بجائے یہ بہتر ہے کہ وہ ’’تاریخ کے فلسفہ‘‘ کی خوبصورت نیون روشنیوں کے تحت دنیا کو ڈرانے اور دھونس جمانے کی اپنی پالیسی کو درست ثابت کرے۔




