ٹرمپ نے امریکا میں ایندھن کی قیمت بڑھنے پر امریکی عوام سے خطاب ميں کہا کہ برداشت کریں
امریکی صدر ٹرمپ نے اوکلاہاما کے انتخابی دورے میں ملک میں ایندھن کی قیمت بڑھنے کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی عوام کو ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ برداشت کرنا چاہئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ بقول ان کے، ایران کو ایٹمی اسلحے تک پہنچنے سے روکنے کی قیمت ادا کرنی ہی پڑے گی۔
انھوں نے خوف و ہراس پھیلاکر، امریکا میں ایندھن کی قیمت میں اضافے کی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کی اور الیکشن میں ریپبلیکن امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ” آپ قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن یہ قیمت اس سے بہت کم ہے جو ہوسکتا تھا۔ فرض کریں اگر ایران الاباما پر ایٹم بم ماردے تو کیا ہوگا۔
امریکا کے محکمہ توانائی کے مطابق اس ملک میں ڈیزل کی قیمت فروری میں 3 اعشاریہ 81 ڈالر فی گیلن تھی جو بڑھ کر 28 ستمبر کو 6 اعشاریہ 38 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی تھی ۔
امریکا میں ایندھن میں یہ اضافہ، فوجی کشیدگی میں شدت اور توانائی کی سپلائی کا راستے میں خلل کی وجہ سے ہوا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے پہلے، آبنائے ہرمز سے رفت وآمد معمول کے مطابق جاری تھی اور جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق ایران میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کی کوئی علامت نہیں تھی۔
ٹرمپ اپنی تقریر میں اسی کے ساتھ ہزارویں بار یہ وعدہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی عالمی قیمت نیچے آجائے گی۔



