صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی اپنی تقریر کو سبھی اصلاح پسند اور اصول پسند گروہوں کے اجتماعی نظریات کا ماحصل قرار دیا ہے
اسلایم جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ افراد کے ساتھ ایک نشست میں اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے بارے میں کہا کہ ان کی یہ تقریر اصلاح پسند اور اصول پسند، دونوں دھڑوں کے نظریات کا نچوڑ تھی۔
انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مجھے جو تجاویز پیش کی گئی تھیں، میں نے اپنی تقریر کو ان سے مطابقت دی اور اپنے یقین کی بنیاد پر ایرانی عوام کے حقوق کا دفاع کیا۔
صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کی اعلی سلامتی کونسل میں مذاکرات کے تعلق سے جس اسٹریٹیجی پر اجماع ہوا، وہ ہمدلی ، یک جہتی اور تعاون کی بڑی کامیابی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کونسل کے 13 میں سے 12 ارکان نے فیصلے کی حمایت کی اور یہ وہ ہستیاں ہیں جو جنگ اور سیاسی مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں ۔
صدرمملکت نے کہا کہ ہم مفاہمت کے لئے پوری کوشش کریں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کے لئے پائیداری کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان حالات میں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ مفاہمت دونوں فریقوں کی کامیابی کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ہم اپنے ملک اور علاقے میں امن و سلامتی اور سکون بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے وطن کی عزت و سربلندی کے لئے اجتماعی کردارکی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ امورمملکت سربلندی کے ساتھ آگے بڑھانے میں سبھی کو تعاون کرنا چاہئے۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جس مفاہمتی یاد داشت پر اتفاق ہوا تھا، اس میں امریکاکو ان امور کو مرحلے وار انجام دینا تھا جن کی پابندی اس نے مفاہمتی یاد دشت میں تسلیم کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے پسپائی اختیار نہیں کی اور جہاں تک ہم سے ہوسکا، ہم نے حکمت، عزت اور مصلحت کے اصول پر ایرانی عوام کی سربلندی کا دفاع کیا ہے۔



