ٹیلی گراف: ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ امریکا کو مشرق وسطی سے ہٹا سکتا ہے
برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ایک تجزیے میں مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو مشرق وسطی سے ہٹا سکتا ہے اور خلیج فارس میں اس کے عرب اتحادیوں کے سیکیورٹی توازن کو بدل سکتا ہے۔
ٹیلی گراف کے تجزیہ کار ڈینیئل ڈی پیٹریس نے "ایران ثابت کر رہا ہے کہ وہ امریکا کو مشرق وسطی سے باہر نکال سکتا ہے” کے عنوان سے مضمون میں لکھا کہ وہ فوجی اڈے جو واشنگٹن نے گزشتہ دہائیوں میں دفاع کے مقصد سے قائم کیے تھے، اب خود کمزور اہداف بن گئے ہیں۔
ٹیلی گراف کے مطابق، اگر امریکی کارروائی منصوبے کے مطابق ہوتی تو ایران اب تک واشنگٹن کی مطلوبہ معاہدے کو قبول کر چکا ہوتا، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بغیر رکاوٹ کے جاری رہتی اور سعودی عرب کی مشرق سے مغرب کی مرکزی پائپ لائن فعال رہتی۔
اخبار نے امریکی کانگریس کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ پر اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے 38 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور کارروائی کے دائرے کے مطابق یہ ماہانہ 3 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے اندازے کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے یا تباہ ہو چکے ہیں۔
ٹیلی گراف نے لکھا کہ سیٹلائٹ تصاویرنقصانات کی قابل ذکر سطح ظاہر کرتی ہیں۔
اخبار کے مطابق، مادی نقصانات سے زیادہ اہم مشرق وسطی میں امریکی فوجی صف آرائی کے لیے ان تبدلییوں کے اسٹریٹجک نتائج ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران واشنگٹن کی فوجی پالیسی کے بنیادی مفروضے پر سات ماہ سے کم عرصے میں سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔