ٹیرف کی رکاوٹ دور کرنے کے لئے ایران اور پاکستان کے مشترکہ چیپمبر آف کامرس کی مشاورت
ایران اور پاکستان کے مشترکہ چیپمبرآف کامرس کے سربراہ نے دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارت میں حائل ٹیرف کی رکاوٹیں دور کرنے کے لئے مشاورت کی خبر دی ہے
ایران اور پاکستان کے مشترکہ چیپمبرآف کامرس کے سربراہ عبدالحکیم ریگی نے کہا ہے کہ ایران کی بعض برآمداتی اشیا پر ٹیرف بڑھ گیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ کن اشیا پر، کتنا ٹیرف بڑھایا گیا ہے۔
عبدالحکیم ریگی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی دو طرفہ تجارت میں بعض اشیا،ترجیحات میں شامل ہیں اور ان پرٹیرف کا تعین ترجیحی سمجھوتے کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے لیکن ٹیرف میں حالیہ اضافہ، تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔
ایران اور پاکستان کے مشترکہ چیپمبر آف کامرس کے سربراہ نے ایران کی برآمدات پر اس فیصلے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اشیا پر ٹیرف میں اضافہ، ان اشیا کے برآمداتی اخراجات بڑھنے کا باعث ہوگا جس سے پاکستان کے اندرایرانی مصنوعات کی رقابت کی قوت متاثر ہوگی، اسی لئے اس موضوع پر دونوں ملکوں کے مشترکہ چیپمبرآف کامرس میں مشاورت کی جارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تجارتی لین دین کے حجم کا ہدف اس اضافے سے پہلے معین کیا گیا تھا اور ہمیں رکاوٹیں دور کرکے، تجارت کے پائیدار دائرہ کار کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔
ایران اور پاکستان کے مشترکہ چیپمبر آف کامرس کے سربراہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارت، اس ہدف تک پہنچنے کا اہم ترین راستہ ہے اور دونوں ملکوں کے مشترکہ چیپمبرآف کامرس میں اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
عبدالحکیم ریگی نے کہا کہ اگر ایران اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ ہوگیا تو ٹیرف کی رکاوٹ بہت حد تک دور ہوجائے گی۔