اردن پر ایران کے میزائل حملوں کے اثرات
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران مشرق وسطی خطے میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں سے ایک عرب ملک اردن ہے جہاں امریکہ کے دو بڑے فوجی اڈے الازرق اور شاہ حسن واقع ہیں۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایران نے بارہا ان اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ تازہ ترین حملے 9 ستمبر 2026ء کے دن انجام پائے جو امریکہ کی جانب سے خلیج فارس میں ایران کے تیل بردار جہازوں پر حملوں کی جوابی کاروائی کے طور پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے گذشتہ تمام حملوں سے زیادہ شدید تھے۔ ان حملوں کے بارے میں ایک اہم نکتہ اردنی عوام کی جانب سے ظاہر ہونے والے ردعمل کی نوعیت ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے کلپس وائرل ہو رہے ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اردنی عوام امریکی فوجی اڈوں پر گرنے والے میزائلوں کے ساتھ سلفیاں بنا کر خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے ان حملوں کے لیے آخر اردن کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ ایران نے اس طرح امریکہ کو یہ واضح پیغام بھیجا ہے کہ حتی امریکہ کے قریبی ترین اور اسٹریٹجک اتحادی بھی اس کی انتقامی کاروائی سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ اردن ایسا عرب ملک ہے جو امریکہ سے سالانہ 20 ارب ڈالر فوجی اور اقتصادی امداد وصول کرتا ہے۔ یوں وہ امریکہ پر انحصار کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
دوسری طرف امریکہ پر اسی انحصار نے اردن کو خطرے کا شکار کر ڈالا ہے کیونکہ اس کے پاس خلیجی ریاستوں کی طرح تیل اور گیس کے ذخائر بھی نہیں پائے جاتے اور وہ علاقائی طاقتوں کے گھیراو میں ہے جس کے باعث اسے اپنے دفاع کے لیے بیرونی طاقت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اردن پر ایران کے تابڑ توڑ میزائل اور ڈرون حملوں نے اس ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور اردن حکومت کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ جولائی کے مہینے میں اردن پر ایران کے میزائل حملوں میں کئی امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن اپنے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی حفاظت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایران کی جانب سے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے اہداف صرف فوجی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ اصل مقصد عبداللہ دوم کی حکومت پر اندر سے دباو بڑھانا ہے تاکہ وہ امریکہ سے فوجی اور سفارتی تعاون محدود کر دے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو اردن میں امریکہ کی پوزیشن کمزور کرنے کے لیے ملک عبداللہ دوم کی حکومت گرانے یا اردن کو فوجی طور پر کمزور کر دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں اردن کو بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دینا ہی کافی ہے۔
ایسے شواہد پائے جاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ اردن کے تقریباً 300 سابق اراکین پارلیمنٹ، قبیلوں کے سربراہان اور سماجی طور پر فعال شخصیات نے ملک عبداللہ دوم کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ملک سے امریکہ کے فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے اور حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ سے تمام دفاعی معاہدے ختم کر دے۔ ملک عبداللہ دوم کی سربراہی میں حکومت اور اردنی عوام کے درمیان گہری خلیج پائی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے۔ اردن کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی فلسطینی مہاجرین پر مشتمل ہے جن کی نظر میں مسئلہ فلسطین محض خارجہ پالیسی کا ایک ایشو نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دوسری طرف اردن حکومت نے 1994ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے تھے اور امریکہ سے سیکورٹی تعاون میں مصروف ہے جس کی وجہ سے اس نے تل ابیب سے سازباز کا راستہ اپنا رکھا ہے۔ اردن کی رائے عامہ غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کے باعث اسرائیل سے شدید متنفر ہے اور حکومتی پالیسی سے راضی نہیں ہے۔ غزہ کی جنگ اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی بھرپور فوجی، مالی اور سفارتی حمایت نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فلسطین کاز کی اعلانیہ اور بھرپور حمایت کے باعث اردنی عوام میں ایران کی محبوبیت بہت زیادہ ہے۔ مختلف سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی حمایت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اردن کے وہ اسلام پسند گروہ جو بعض اوقات ایران پر تنقید کرتے رہتے تھے اس وقت ایران کی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تمام چیزوں نے اردن حکومت کو شدید مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کسی بھی صورت میں مدد پر شدید عوامی ردعمل سامنے آتا ہے۔ اپریل 2024ء میں جب ایران نے اسرائیل کو براہ راست میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا تو اردن حکومت نے امریکہ کے تعاون سے ایران کے میزائل روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر اردن حکومت کے خلاف شدید مہم چلائی گئی تھی اور اردنی عوام نے حکومت کے اس اقدام کو فلسطین کاز سے غداری قرار دیا تھا۔ لہذا اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کے دوررس نتائج ظاہر ہوں گے۔ اردن میں فلسطینی مہاجرین کی اکثریت کے باعث اردن کی رائے عامہ میں فلسطین کاز سے گہری وفاداری اور فلسطینیوں سے ہمدردی پائی جاتی ہے جبکہ اردنی حکومت امریکہ کی پٹھو حکومت ہے اور اسرائیل سے سازباز کرنے کے درپے ہے۔
