امریکی خارجہ پالیسی میں اسرائیلی لابی کا کردار
اسرائیلی لابی امریکا کو ایران کے خلاف جنگ کے قریب کس طرح لائی؟ پہلی قسط
اسرائیل کے بارے میں، دو عشرے کی امریکی پالیسی کے تازہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کی صیہونی لابی نے، وسیع مالی حمایت اور سیاسی دباؤ کے ذریعے، اسرائیل میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے اور جنگی رجحان کی تقویت میں مدد کی اور ایران کے خلاف امریکی جنگ کے لئے حالات سازگار کئے۔
اس رپورٹ کے مطابق بیس برس قبل، محققین پراسرائیلی لابی کے وجود کا اعتراف کرنے پر یہودیوں کی مخالفت کا الزام لگ جانے کا امکان تھا، لیکن آج اس لابی کا اثرورسوخ نا قابل انکار ہوگیا ہے اور امریکی سیاست میں ہرجگہ موجود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس سال میں، امریکا اور اسرائیل کے روابط کی کمیٹی AIPAC نے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دولت خرچ کی ہے اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کی مخالفت بہت وسیع ہوچکی ہے، اسرائیلی لابی کے بارے میں، گہری اور مستند تحقیقی رپورٹ جاری کرنے کا اس سے بہتر موقع، کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
جیکوبن جریدے کے سیٹ ایکر مین نے، تحقیقی رپورٹر ایلی کلفٹن اور سینئر محقق ایان لوسٹک سے، ان کی کتاب، ” اسرائیلی لابی: امریکا ایک بیرونی طاقت کے چنگل میں” کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی لابی نے نہ صرف یہ کہ واشنگٹن کی سیاست کو غلط راستے پر ڈالا ہے بلکہ خود اسرائیلی آئیڈیالوجی کے بھی زیادہ ریڈیکل ہونے کی رفتار بڑھا دی ہے۔
امریکا میں اسرائیلی لابی کے اثرورسوخ کے بارے میں لکھی گئی اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اس لابی سے اس وقت خود امریکا کے اندر شہری آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔