ایران کے بارے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ
ایران کے بارے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ؛ روس اور چین کی مخالفت، امریکہ اور اس کے حامیوں کے بے دعوے
ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس روس اور چین کی جانب سے شدید مخالفت جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فرسودہ دعوؤں کے اعادے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔
فرانس نے جمعرات کو سلامتی کونسل پر اپنی صدارت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور روس اور چین کی مخالفت کے باوجود ایران اور کمیٹی نمبر 1737 کے بارے میں اجلاس بلایا جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے ارنا کے نامہ نگار کے مطابق روس اور چین کے نمائندوں نے اس اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 (2015) 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے اور اس تاریخ کے بعد اور غیر موثر اور ایگزیکٹیو مشن کے عار ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کی سفیر اور نائب مندوب "انا ایم استگنیوا” نے ایران کے بارے میں اس اجلاس کے انعقاد کے طریقہ کار کی ووٹ سے پہلے کہا: "اس کمیٹی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا کوئي جواز نہیں ہے،” کیونکہ قرارداد 2231 (2015) کی میعاد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی دن (18 اکتوبر 2025) خود قرارداد کی دفعات کے مطابق، سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے "عدم پھیلاؤ” کے معاملے کو خارج کر دیا گیا تھا اور یہ کہ سلامتی کونسل کے کچھ اراکین اسنیپ بیک میکانزم کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے بارے میں پہلے منظور شدہ قراردادوں کو واپس کرنے کا طریقہ کار – جس کی پیشین گوئی قرارداد 2231 (2015) میں کی گئی تھی – مختلف وجوہات کی بناء پر فعال نہیں کیا گیا۔
سلامتی کونسل میں روسی مندوب نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا ملک اس اجلاس کے انعقاد کا مخالف ہے” اور اس کے ایجنڈے کے بارے میں پروسیجرل ووٹنگ کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسنیپ بیک ختم ہو گیا ہے اور ہم جے سی پی او اے کے خاتمے کا مشاہدہ کر رہے ہیں لہذا کمیٹی 1737 اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہیں کرسکتی۔
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر اور نائب مندوب سن لی نے بھی روس کے موقف کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایرانی جوہری مسئلہ کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے پہلے ہی خارج کیا جا چکا ہے۔
چین کے مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل ایرانی جوہری معاملے کو اپنے ایجنڈے سے خارج کرچکی ہے جبکہ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کے پاس ایران کے جوہری معاملے پر 90 روزہ رپورٹ کی تیاری کا کوئی مینڈیٹ نہیں۔
انہوں نے ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران کے خلاف جبری پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر اصرار کرتے ہیں اور ایک خارج شدہ ایجنڈے کے تحت سلامتی کونسل کے اجلاس منعقد کرانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف کونسل کے اندر اختلافات اور دوریاں بڑھیں گی بلکہ ایران کے جوہری مسئلے کے سیاسی حل کو بھی بری طرح متاثر کریں گے۔
تاہم سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں برطانوی اور امریکی مندوبین نے روس اور چین کے موقف کی مخالفت کی۔ سلامتی کونسل میں برطانیہ کے سفیر نے روس اور چین کے موقف کو "مسترد” کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران نے JCPOA کے تحت اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔
امریکی نمائندے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ چین اور روس کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور برطانیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا: گزشتہ سال کونسل نے ایران کے خلاف پابندیوں کی قراردادوں کو بحال کرنے اور ان پابندیوں کے نفاذ کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے، جن کا ملک ایران کے جوہری پروگرام پر ثالثی کر رہا ہے اور جس کی کوششوں سے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے مگر عمل درآمد نہیں ہوا، اپنے خطاب میں سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے کی بابت خـبردار کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو پرامن ذرائع، سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو رہنما اصول رہنا چاہیے۔
ارنا کے مطابق، اگرچہ جمعرات 10 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ضابطے کی ووٹنگ کے تحت (بغیر ویٹو) منعقد ہوا لیکن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کے حق میں 11، روس اور چین نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اجلاس میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ روس اور چین کی جانب سے اصولی مخالفت کی وجہ سے ایران کے خلاف پابندیوں کی کمیٹی 1737 کو فعال نہیں کیا جا سکا۔
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ پڑھی گئی اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی نمائندہ موجود تھا۔