ہمیں اسرائیل کیساتھ ذلت آمیز معاہدہ قبول نہیں، حزب اللہ لبنان

bsr.jpg

bsr.jpg

مزاحمتی محاذ کے ساتھ منسلک لبنانی پارلیمانی اتحاد الوفا للمقاومہ کے رکن علی المقداد نے قصبہ حام کے حسینیہ میں شہداء حسین مہدی مہدی اور علی احمد مہدی کے چہلم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اسلامی مزاحمت اور شہداء کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج لبنان، عالمی برادری میں کوئی مقام نہ رکھتا۔ علی المقداد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، ہم کامیاب ہوئے.. جب دشمن اور اس کے اتحادی مزاحمت کو ختم کر دینے کے درپے تھے تو ہماری استقامت اور ہمارے شہداء کے خون نے ہی ان کے مذموم منصوبے ناکام بنائے لہذا آج جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسرائیل کو شکست دی ہے تو یہ ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام قربانیوں اور تباہیوں کے باوجود ہم نے اس غاصب رژیم کو شکست دی ہے، تمام دیہات اور مکانات آزاد ہوں گے اور عزیز عوام، مجاہدین کی مزاحمت کے بدولت اپنے گھروں اور دیہات میں واپس لوٹیں گے۔

علی المقداد نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی شق میں لبنان میں جنگ بندی اور دشمن کے مکمل و ہمہ گیر انخلا پر صراحت کے ساتھ اتفاق کیا گیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی اپنے اسی مؤقف پر ثابت قدم ہے تاہم لبنانی حکام ایسے معاہدے پر دستخط کے باوجود کہ جو دشمن کو پسپائی پر مجبور کرتا ہے، اب بھی دشمن اسرائیل کے ساتھ براہ راست امن معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں درحالیکہ عبری ذرائع ابلاغ اس معاہدے کو غاصب صیہونی رژیم کی "حقیقی فتح” کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ علی المقداد نے مزید کہا کہ ہم لبنانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس توہین آمیز اور ذلت آمیز معاہدے سے دستبردار ہو کر اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں نیز یہ کہ مزاحمت اور اس کے اراکین؛ محب وطن و باعزت ہیں اور صدر یا وزیر اعظم، انہیں کسی صورت قانون شکنوں کی فہرست میں شامل نہیں کر سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے