الجولانی رژیم لبنان پر حملہ نہیں کریگی، جوزف عون
مقامی میڈیا کے مطابق، اس ملاقات کے بعد جوزف عون نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ حالیہ متنازعہ معاہدے کو جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے تاکید کی کہ اس نازک مرحلے پر لبنان کا مفاد یہ ہے کہ وہ یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے حمایتی موقف سے کام لیتے ہوئے، "فریمورک فارمولہ” جیسے حل تک پہنچنے میں امریکہ کی حمایت کو نظر انداز نہ کرے۔ لبنانی صدر نے دعوی کیا کہ "فریمورک فارمولہ” لبنان کے مسلمہ حقوق اور اصولوں سے متصادم نہیں اور ان کی مکمل ضمانت چاہتا ہے۔ لبنانی صدر نے یہ دعوی بھی کیا کہ اب جنگوں اور تسلط کے دور سے نکلنے کا وقت آ چکا ہے اور لبنانیوں کی اکثریت بالخصوص جنوب میں ہمارے عوام، اس بات کی حمایت کرتے ہیں نیز ہم لبنانی سرزمین کا کوئی انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔
ادھر لبنان کے صدارتی دفتر نے بھی اس ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ الجولانی حکومت کے وزیر خارجہ نے جوزف عون کو شام کے دورے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ اس بارے شامی وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ اسعد الشیبانی نے اس ملاقات میں تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کے ساتھ ساتھ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی گفتگو کی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران لبنانی صدر نے بیروت کی جانب سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہنے پر تاکید کی اور مزید کہا کہ جس طرح دمشق بیروت کے استحکام کا خیال رکھتا ہے اسی طرح ہم بھی شام کے استحکام اور سلامتی پر زور دیتے ہیں۔
