الجولانی رژیم لبنان پر حملہ نہیں کریگی، جوزف عون

bsr.jpg

bsr.jpg

شام پر حاکم باغی حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ اپنے دفتر میں ملاقات کے بعد لبنانی صدر جوزف عون کا کہنا تھا کہ شامی وزیر خارجہ کا آج کا دورہ لبنان، لبنان میں مداخلت سے متعلق شامی صدر احمد الشرع کے ارادے کے بارے بعض لبنانیوں کے خدشات کو دور کرتا ہے اور یہ دورہ افواہوں کی تکذیب کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات کی استواری اور باہمی احترام نیز ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت پر بھی تاکید کرتا ہے۔ لبنانی صدر نے کہا کہ شامی وفد نے دونوں ممالک کے قانونی اداروں کے ذریعے دوطرفہ تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے نہ کہ کسی بھی گروہ کے ذریعے لبنانی معاملات میں مداخلت پر!

مقامی میڈیا کے مطابق، اس ملاقات کے بعد جوزف عون نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ حالیہ متنازعہ معاہدے کو جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے تاکید کی کہ اس نازک مرحلے پر لبنان کا مفاد یہ ہے کہ وہ یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے حمایتی موقف سے کام لیتے ہوئے، "فریمورک فارمولہ” جیسے حل تک پہنچنے میں امریکہ کی حمایت کو نظر انداز نہ کرے۔ لبنانی صدر نے دعوی کیا کہ "فریمورک فارمولہ” لبنان کے مسلمہ حقوق اور اصولوں سے متصادم نہیں اور ان کی مکمل ضمانت چاہتا ہے۔ لبنانی صدر نے یہ دعوی بھی کیا کہ اب جنگوں اور تسلط کے دور سے نکلنے کا وقت آ چکا ہے اور لبنانیوں کی اکثریت بالخصوص جنوب میں ہمارے عوام، اس بات کی حمایت کرتے ہیں نیز ہم لبنانی سرزمین کا کوئی انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔

ادھر لبنان کے صدارتی دفتر نے بھی اس ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ الجولانی حکومت کے وزیر خارجہ نے جوزف عون کو شام کے دورے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ اس بارے شامی وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ اسعد الشیبانی نے اس ملاقات میں تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کے ساتھ ساتھ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی گفتگو کی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران لبنانی صدر نے بیروت کی جانب سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہنے پر تاکید کی اور مزید کہا کہ جس طرح دمشق بیروت کے استحکام کا خیال رکھتا ہے اسی طرح ہم بھی شام کے استحکام اور سلامتی پر زور دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے