اگر اسرائیل کو علم ہوتا تو ایران سے جنگ نہ چھیڑتا: اردنی تجزیہ کار
اردن کے معروف تجزیہ کار عریب الرنتاوی نے کہا ہے کہ ایران۔امریکہ معاہدہ جنگ کے بعد طاقت کے توازن میں ایک اہم موڑ ہے۔
اردنی تجزیہ کار عریب الرنتاوی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ جنگ کے بعد طاقت کے توازن میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول، ایران اس جنگ سے امریکہ اور اسرائیل کی نسبت زیادہ سیاسی اور تزویراتی کامیابیاں سمیٹنے میں کامیاب رہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کے بیشتر مطالبات کو تسلیم کرتا ہے اور مرحلہ وار مذاکرات کے اصول کو مضبوط بناتا ہے۔ معاہدے میں ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے، جبکہ افزودہ یورینیم کے ذخائر بھی ایران ہی میں برقرار رہیں گے۔
الرنتاوی نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ لبنان کا معاملہ علاقائی سمجھوتوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار رہائی کے حوالے سے بھی ضمانتیں شامل کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل اپنے ان اعلانیہ اہداف کے حصول میں ناکام رہے جن میں ایران کے نظام کی تبدیلی، اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کا خاتمہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کو کمزور کرنا شامل تھا۔
الرنتاوی کے مطابق اسرائیلی حکام خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر انہیں پہلے سے معلوم ہوتا کہ جنگ کے نتائج ایسے ہوں گے تو وہ ایران کے خلاف یہ جنگ شروع نہ کرتے۔ ان کے بقول، اسرائیل اس جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ تنہا اور کمزور ہو گیا ہے، جبکہ امریکہ کے عرب اتحادیوں کا اس کے سکیورٹی تحفظ پر اعتماد بھی کمزور پڑا ہے۔