نیٹو کو پر جواب دینا پڑے گا: ایران
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بیانات ایران کے خلاف جارحیت میں شمولیت کا اعتراف ہیں، جبکہ اٹلی اور رومانیہ سمیت متعلقہ ممالک کو بھی اپنے کردار کی وضاحت کرنا ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ نیٹو کو امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جارحیت میں کردار ادا کرنے پر جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے اپنے بیان میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں معاونت کی، جبکہ اٹلی اور رومانیہ کو بھی ان ممالک میں شامل کیا گیا جنہوں نے طور پر امریکی فوجی آپریشنز میں تعاون کیا۔
بقائی کے مطابق، نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان ایک خودمختار اور اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف فوجی جارحیت میں اس اتحاد کی شمولیت کا اعتراف ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اور اس کے تمام رکن ممالک، جنہوں نے اس فیصلے میں کسی بھی سطح پر کردار ادا کیا، انہیں اس جنگ کے تمام نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ اٹلی، رومانیہ اور وہ تمام یورپی ممالک جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں تعاون کیا، انہیں اپنی عوام اور عالمی برادری کے سامنے یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے ایران کے خلاف اس کارروائی میں تعاون کیوں کیا۔
بقائی نے کہا کہ اس جارحیت کے نتیجے میں ایران کے مختلف شہروں میناب، لامرد، تہران، اصفہان، سنندج، ہمدان، تبریز، شیراز اور بندرعباس میں شہریوں کو نقصان پہنچا۔