ہم نے کوریا کے آئل ٹینکر کو نشانہ نہیں بنایا، ایران
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کوریائی بحری جہاز پر حملے اور اس کے نتیجے میں اس بحری جہاز میں آگ لگ جانے میں ایرانی مسلح افواج کے کردار کی واضح طور پر تردید کی ہے۔ ایرانی سفارت خانے نے تاکید کہ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز ایران کے دفاعی جغرافیہ کا لازمی جزو ہے۔ اپنے بیان میں ایرانی سفارتخانے نے متنبہ کیا کہ آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرنے کے لئے "ضابطوں کی مکمل تعمیل، انتباہات پر عملدرآمد اور متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت ہے نیز یہ کہ کسی بھی قسم کی غفلت "غیر ارادی واقعات” کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ واقعہ "نامو” (NAMU) نامی کارگو بحری جہاز پر پیش آیا کہ جس کی ملکیت، پانامہ کے پرچم کے ساتھ عمل کرنے والی جنوبی کوریا کی HMM شپنگ کمپنی کے پاس ہے اور جو بحران کے بڑھنے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق پیر کی شام اس بحری جہاز کے انجن روم میں ایک دھماکہ ہوا تھا اور وہاں آگ لگ گئی تھی تاہم اس کے عملے کے 24 ارکان جن میں 6 کوریائی باشندے بھی شامل ہیں، محفوظ رہے اور آگ پر قابو پالیا گیا تھا۔
