اسرائیلی جوہری ہتھیار، 29 کانگریس مین کیجانب سے ٹرمپ کو خط
امریکی کانگریس کے 29 ڈیموکریٹک نمائندوں نے ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ کی روایتی اور دہائیوں پر محیط پراسرار خاموشی کو توڑے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اپنے خط میں امریکی اراکین کانگریس نے ٹرمپ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "اسرائیل کے ہتھیاروں کے پروگرام، کہ جس کی خود اس نے بھی کبھی تصدیق نہیں کی اور جسے 1950 کی دہائی کے اواخر سے مکمل رازداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا ہے، کو منظر عام پر لائے!”
اس حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ، ایک ایسا اقدام ہے کہ جو کئی ایک دہائیوں پر محیط امریکی اسٹریٹجک پالیسی کو پس پشت ڈال دے گا، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ اقدام اس بات کی بھی اعلانیہ تصدیق کرتا ہے کہ 1960 کی دہائی کے اواخر سے انٹیلیجنس حلقوں میں کیا "کھلا راز” پالا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی ایک دیرینہ دوطرفہ پالیسی یہ رہی ہے کہ "جان بوجھ کر اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا جائے” جبکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے کہ جسے "اسٹریٹیجک ابہام” یا "غیر تصدیقی آپشن” کے نام سے جانا جاتا ہے، کہ جس نے قابض صیہونی رژیم کو کسی بھی بین الاقوامی ذمہ داری کو قبول کئے بغیر "جوہری ڈیٹرنس” سے لطف اندوز ہونے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔
