خلیجی ممالک ایران کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے، پروفیسر سلطان برکات

2.jpg

2.jpg

قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے پروفیسر سلطان برکات نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے متحدہ عرب امارات پر ممکنہ (امریکی و اسرائیلی) دباؤ کے باوجود، خلیجی ریاستیں ایسا کرنے سے "ہچکچا” رہی ہیں۔ پروفیسر سلطان برکات نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر اس (اسرائیلی) معرکے میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں اور وہ پوری طرح سے سمجھتی ہیں کہ یہ تنازعہ اُن کا نہیں اور یہ کہ یہ تنازعہ اُن پر (اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے) مسلط کیا گیا ہے نیز وہ معاشی طور پر پہلے ہی بہت بھاری قیمت چکا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی مسلح افواج کی جانب سے بھی خطے بھر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہم اثاثوں کے خلاف فیصلہ کن ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ خلیج فارس میں جنگ کی لہر دوڑ جانے اور امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے عرب ممالک میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث، خلیج فارس کے اندر واقع ان عرب ممالک کو نہ صرف شدید معاشی نقصان پہنچا ہے بلکہ انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگی حمایت کی بھاری قیمت بھی چکائی ہے، تاہم عرب ممالک کی جانب سے اس فاحش غلطی کا تسلسل اب بھی جاری ہے اور انہوں نے تاحال سبق نہیں سیکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے