امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنا دنیا کو ایک خطرناک پیغام دیتا ہے
پاکستان: امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنا دنیا کو ایک خطرناک پیغام دیتا ہے
🔻اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے امریکہ کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری کو روکنا نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کے خلاف ہے، بلکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم میں شراکت داری کے مترادف ہے اور یہ دنیا کو ایک بہت خطرناک پیغام دیتا ہے۔
🔻انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا:
“یہ ایک غمناک دن ہے، اور غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کا ویٹو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔”
🔻پاکستانی سفیر نے مزید کہا:
“ہم یہ دیکھ کر حیران اور خوفزدہ ہیں کہ سلامتی کونسل ایک بار پھر اجتماعی تکلیف، ظلم اور جاری انسانی سانحے کے سامنے مفلوج اور خاموش رہی ہے۔
آج کا ویٹو یہ انتہائی خطرناک پیغام دیتا ہے کہ دو ملین سے زائد محصور، بھوکے اور وحشیانہ بمباری کے شکار فلسطینیوں کی جانیں نظرانداز کی جا سکتی ہیں۔”
🔻انہوں نے مزید کہا:
“یہ اقدام نہ صرف اس کونسل کے ضمیر پر دھبہ ہے بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔
غزہ میں شہدا کی تعداد 54,000 سے تجاوز کر چکی ہے اور وہاں کی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
