داعش خراسان کیا ہے اور اس نے روس میں حملے کا دعویٰ کیوں کیا؟

maxresdefault.jpg

جمعے کی رات ماسکو میں موسیقی کے ایک پروگرام میں پیش آنے والے سانحے سے قبل روس کو خبردار کیا گیا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملہ ہونے والا ہے۔اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جب چار مسلح افراد کے ایک گروہ نے کروکس سٹی ہال میں پروگریسو راک بینڈ پکنک دیکھنے کے لیے کنسرٹ میں جانے والے سات ہزار افراد پر فائرنگ کی تو روسی انٹیلی جنس سروسز اس حملے کے لیے تیار نہیں تھیں۔

فائرنگ کے دوران کم از کم 137 افراد مارے گئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسلامی شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے متعدد ویڈیوز اور پیغامات میں اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔چاروں مشتبہ افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالت میں لے جایا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر میں گھسیٹتے ہوئے لایا جا رہا ہے۔

داعش خراسان کیا ہے؟

ایران، ترکمانستان اور افغانستان کے کچھ حصوں پر مشتمل خطے کو پرانے زمانے میں ’خراسان‘ کہا جاتا تھا اور دولتِ اسلامیہ خراسان (آئی ایس آئی ایس- کے) کا نام اسی پرانی اصطلاح پر رکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم 2014 کے آخر میں مشرقی افغانستان میں ابھری اور جلد ہی اپنی انتہائی بربریت کی وجہ سے بدنام ہو گئی۔اگرچہ 2018 کے بعد سے اس تنظیم کی رکنیت میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن یہ داعش کے سب سے زیادہ فعال علاقائی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران اسے امریکی افواج اور طالبان کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دونوں نے اس تنظیم کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔اس کے باوجود، امریکہ اس تنظیم کو خطرناک سمجھتا ہے، گذشتہ مارچ میں کانگریس نے بتایا تھا کہ داعش خراسان یورپ اور ایشیا میں ’بیرونی کارروائیاں‘ انجام دینے کی صلاحیت پیدا کر رہی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل مائیکل کریلا نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ ’چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اور بغیر کسی انتباہ کے‘ افغانستان سے باہر امریکی اور مغربی مفادات پر حملہ کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

روس میں حملہ کیوں؟

اسلامی شدت پسند تنظیمیں اکثر روس کی سکیورتی کے لیے چیلنج رہی ہیں، داعش خراسان نے اس سے قبل 2017 میں روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میٹرو میں بھی بم دھماکہ کیا تھا، جس میں 15 افراد مارے گئے تھے۔داعش کی جڑیں زیادہ تر وسطی ایشیا میں ہیں اور وہ روس کو امریکہ کی طرح دیکھتی ہے، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اسلام کے خلاف ’نفرت‘ کے جذبات رکھتا ہے۔وہ روس کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کا بھی حوالہ دیتے ہیں جس کے تحت روس نے 2015 میں شام میں مداخلت کی تھی اور گذشتہ سال بھی فضائی حملے کیے تھے۔

واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے کہا کہ داعش ’روس کو مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث دیکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تنظیم کا شمار ایسے متعدد وسطی ایشیائی عسکریت پسندوں کے ارکان کے طور پر بھی ہوتا ہے جن کو ماسکو سے شکایات ہیں۔

اس تنظیم نے اور کون سے حملے کیے ہیں؟

اس سال کے شروع میں امریکہ نے ایسی مواصلات پکڑی تھیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اس تنظیم نے ایران میں دو بم دھماکے کیے تھے جن میں تقریبا 100 افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ یہ افراد امریکی افواج کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے ایرانی فوجی افسر قاسم سلیمانی کی برسی کے موقعے پر سوگ منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ستمبر 2022 میں داعش خراسان کے عسکریت پسندوں نے کابل میں روسی سفارت خانے پر ہونے والے جان لیوا خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔یہ گروپ 2021 میں افغانستان سے امریکہ کے ہنگامہ خیز انخلا کے دوران کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کا بھی ذمہ دار تھا جس میں 13 امریکی فوجی اور کم از کم 169 شہری مارے گئے تھے۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے