دوبارہ گنتی، تحریکِ انصاف کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ ؟

2023626-553916840.jpg

انتخابات ہوئے تقریباً ڈیڑھ مہینہ گزر چکا۔ وفاق سمیت چاروں صوبوں میں حکومتیں بھی تشکیل پا چکی ہیں لیکن انتخابی تنازعات اور نتائج میں تبدیلی کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس پر اپوزیشن کی جماعتوں کو تحفظات بھی ہیں۔اب تک قومی اسمبلی کی دو جبکہ صوبائی اسمبلی پنجاب کی تین اور کے پی اسمبلی کی ایک نشست کا نتیجہ دوبارہ گنتی کے بعد تبدیل ہو چکا ہے جبکہ کئی حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں مختلف فورموں پر زیرِسماعت ہیں

این اے 81 کے نتائج کو ن لیگ کے اظہر قیوم ناہرہ نے چیلنج کر رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن نے 75 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔ دوبارہ گنتی میں اظہر قیوم ناہرا ایک لاکھ 10 ہزار 57 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزادامیدوار بلال اعجاز ایک لاکھ چھ ہزار 860 ووٹ لے کر ہار گئے۔ان کی کامیابی کے خلاف آزاد امیدوار نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔اس حلقے میں پہلے نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار رانا بلال اعجاز نے ایک لاکھ 17 ہزار 717 ووٹ لیے تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے اظہر قیوم ناہرہ کو ایک لاکھ 9 ہزار 926 ووٹ ملے تھے۔ تاہم دوبارہ گنتی میں حلقے میں اس حلقے کے فارم 47 کے مطابق 7012 مسترد ووٹوں کی تعداد 17 ہزار 886 ہو گئی۔اس حلقے سے آزاد امیدوار رانا بلال اظہر کا کہنا ہے کہ انہیں ہرانے کے لیے آٹھ فروری کو بھی 20 سے 25 ہزار جعلی ووٹ ڈالے گئے اس کے باوجود جب کامیابی نہ ملی اور حلقے کے عوام نے میرے حق میں فیصلہ دیا تو دوبارہ گنتی کے ذریعے ہروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور آخری بال تک لڑ کر حلقے کے عوام کا چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لیں گے۔

دوسرا حلقہ ین اے 154 لودھراں ون میں دوبارہ گنتی میں آٹھ فروری کو ساڑھے چھ ہزار ووٹوں سے ہارنے والے لیگی امیدوار عبدالرحمان کانجو دوبارہ گنتی میں جیت گئے۔دوبارہ گنتی میں عبدالرحمان کانجو کے ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 27 ہزار 984 ہو گئی۔ آزاد امیدوار رانا فراز نون ایک لاکھ 20 ہزار 683 ووٹ لے سکے ۔آٹھ فروری کو اس حلقے میں رانا فراز نون نے اس سے قبل ایک لاکھ 34 ہزار 937 ووٹ حاصل کیے تھے اور ن لیگ کے عبدالرحمان کانجو نے ایک لاکھ 28 ہزار 438 ووٹ لیے تھے۔رانا فراز نون نے دوبارہ گنتی کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور سنگل بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تاہم دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے عبدالرحمان کانجو کو کامیاب امیدوار قرار دے دیا۔

پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 7، پی پی 90 اور پی پی 100 میں بھی آٹھ فروری کو کامیاب ہونے والے امیدوار دوبارہ گنتی میں شکست کھا چکے ہیں اور ان کے مقابلے میں ن لیگی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔کلرسیداں کہوٹہ پر مشتمل صوبائی حلقہ پی پی 7 کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ ن کے راجہ صغیر احمد کامیاب قرار دے دیے گئے۔آٹھ فروری کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کرنل (ر) محمد شبیر اعوان کامیاب قرار پائے تھے۔ راجہ صغیر احمد نے کئی پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کو چیلنج کیا تھا۔ 66 پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹ دوبارہ چیک کیے گئے جن کے نتیجے میں محمد شبیر اعوان ہار گئے اور راجہ صغیر احمد کو 3621 ووٹوں کی برتری سے کامیاب قرار دے دیا گیا۔
اسی طرح حلقہ پی پی 90 میں دوبارہ گنتی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ کامیاب امیدوار عرفان اللہ خان ہار گئے جبکہ آزاد امیدوار احمد نواز خان نوانی سات ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہو گئے جنہوں نے بعد میں ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لیا۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عرفان اللہ خان نے کہا کہ ری کاؤنٹنگ غیرقانونی تھی۔ فارم 47 جاری ہونے کے بعد مجھے ہرانے کے لیے دوبارہ گنتی کی گئی۔ ہمارے ووٹ مسترد کیے گئے اور ڈبل مہریں لگائی گئیں۔عرفان اللہ خان نے کہا کہ ہم زبردستی ہرانے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔

ایک اور حلقے فیصل آباد پی پی 100میں دوبارہ گنتی کے بعد پی ٹی آئی حمایت یافتہ عمیر وصی ظفر ن لیگ کے امیدوار خان بہادر ڈوگر سے ہار گئے۔دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ ن کے امیدوار خان بہادر ڈوگر 4700 ووٹ سے جیت گئے جبکہ 8 فروری کو پی ٹی آئی امیدوار عمیر وصی ظفر 3866 ووٹوں سے جیتے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پی پی 100 میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے خیبر پختونخوا کے صوبائی حلقے پی کے 40 کے نتیجے کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست کی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 40 مانسہرہ میں 173 پولنگ سٹیشنز کی دوبارہ گنتی کی گئی جس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار شاہ جہاں یوسف کو ہی دوبارہ کامیاب قرار دیا گیا۔دوبارہ گنتی میں سردار شاہ جہاں یوسف کے 43 ہزار 14 ووٹ نکلے جب کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شکور لغمانی نے 42 ہزار 918 ووٹ حاصل کیے۔الیکشن کمیشن حکام نے دوبارہ گنتی کے بعد پی کے 40 کا فارم 47 بھی جاری کر دیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے کہا ہے کہ ایک سازش کے تحت تحریک انصاف کے متعدد حمایت یافتہ کامیاب امیدواروں کی جیت کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے ذریعے شکست میں تبدیل کرنے کی غیرآئینی کوششیں جاری ہیں۔ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی اور سرکاری نتائج جاری ہونے کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں کی جا سکتی۔

ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی آئینی طور پر جیتی گئی نشستیں مسترد شدہ کرداروں میں خیرات کے طور پر تقسیم کی جا رہی ہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ ’عوامی مینڈیٹ کے برعکس ایوانوں کو عوام کے مسترد شدہ کرداروں کے حوالے کر کے جمہوریت اور دستور کی کھلی توہین کا سلسلہ بلاروک جاری ہے۔ عوامی منشا کی پامالی کا سلسلہ ملک کو نہ صرف سیاسی عدم استحکام کی جانب دھکیلے گا بلکہ معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کرنے کا سبب بنے گا۔‘

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے