پی ٹی آئی احتجاجی سیاست جاری رکھے گی یا پارلیمان میں فعال کردار ادا کرے گی؟

2599489-ptiflagx-1706860483-828-640x480.jpg

حالیہ عام انتخابات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی 93 نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں۔پی ٹی آئی کے ایک منتخب رکن کی ن لیگ میں شمولیت کے بعد اب اُن کے پاس قومی اسمبلی کی 92 نشستیں ہیں پاکستان تحریک انصاف کے حامی امیدوار صوبائی اسمبلیوں میں بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔عام انتخابات 2024 میں کامیابی کے بعد اس سوال نے جنم لیا تھا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف اب بھی دھرنا سیاست جاری رکھے گی یا پارلیمان میں اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کرے گی؟

ماضی کے عام انتخابات اور پاکستان تحریک انصاف کی دھرنا سیاست

پاکستان تحریک انصاف کی سیاست ماضی میں دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے گرد گھومتی رہی ہے۔اپریل 1996 میں وجود میں آنے والی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 1997 کے عام انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا یوں پی ٹی آئی کے سیاسی سفر کا آغاز عملی طور پر سال 1997 میں ہوا۔پاکستان تحریک انصاف نے 3 فروری 1997 کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ تو لیا لیکن کسی نشست پر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ یوں ابتدا میں پی ٹی آئی کو متاثر کن عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات بھی پاکستان تحریک انصاف کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے اور عمران خان ہی قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیاب ہو پائے۔پی ٹی آئی نے 2002 کے انتخابات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور محدود پیمانے پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔
عام انتخابات 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریتی نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے اقتدار سنبھالا تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔پی ٹی آئی نے 2008 کے عام انتخابات سے قبل بھی انتخابات پر سوالات اٹھائے اور نتائج کے بعد بھی سراپا احتجاج رہی۔

سال2013 میں ہونے والے عام انتخابات پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست میں تیزی کا سب بنے۔ پی ٹی آئی نے 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے اور ابتدائی طور پر قومی اسمبلی کے چار حلقوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی نے مطالبات منظور نہ ہونے پر بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا اور 14 اگست 2014 کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا۔پاکستان تحریک انصاف نے لاہور سے اپنے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا تھا جس کو اسلام آباد پہنچنے میں دو دن لگے۔ انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو پہلے زیرو پوائنٹ اور پھر آبپارہ چوک پر رکنے کی اجازت دی گئی۔پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مظاہرہ ڈی چوک پر دھرنے کی شکل اختیار کر گیا اور یوں پی ٹی آئی نے ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا جو 126 دن تک جاری رہا۔2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی۔ یہ واحد انتخابات تھے جن پر پاکستان تحریک انصاف کے تحفظات سامنے نہیں آئے۔

2024 کے عام انتخابات پر پاکستان تحریک انصاف کا موقف

8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر بھی پاکستان تحریک انصاف کے تحفظات سامنے آئے ہیں جس کے خلاف جہاں پی ٹی آئی احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے تو وہیں الیکشن کمیشن اور متعلقہ عدالتوں سے بھی رجوع کیا جا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور ترجمان شیعب شاہین نے البصیر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘پی ٹی آئی نہ صرف قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اپنا کردار ادار کرے گی بلکہ اگر ہمارے تحفظات دور نہ ہوئے تو احتجاجی سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

شیعب شاہین کے مطابق، موجودہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف عمران خان کی کال پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی عدالتوں میں بھی اپنے کیسز لے کر گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘عام انتخابات 2024 میں ہماری واضح اکثریت پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن اور آر اوز نے نتائج تبدیل کیے ہیں۔’
ان کا کہنا تھا، ‘پی ٹی آئی کی 180 کے قریب نشستوں کو دھاندلی کے ذریعے کم کر کے 93 تک محدود کیا گیا۔ پی ٹی آئی عدالتی محاذ پر اپنی جنگ لڑے گی۔’انہوں نے البصیر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘ہم قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہیں۔اپنے مینڈیٹ کے تناسب سے پارلیمان میں بھی آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ‘پاکستان تحریک انصاف کے لیے پارلیمانی فورم استعمال کرنا زیادہ مفید رہے گا۔سہیل وڑائچ نے البصیر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ‘پاکستان تحریک انصاف دھرنے کی سیاست پر زیادہ انحصار کرتی آئی ہے۔ ماضی میں پی ٹی آئی عام انتخابات کے بعد احتجاجی مظاہرے اور دھرنا سیاست کرتی رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی ان انتخابات میں بھی مرکز میں ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے جس کے باعث اس کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں اپنا موقف پیش کرے۔سہیل وڑائچ کے مطابق، پی ٹی آئی کو اسمبلیوں میں اپنی پارٹی پوزیشن کا بہتر استعمال کرنا چاہیے۔ قومی اسمبلی سمیت صوبائی اسمبلیوں میں بھی مؤثر نمائندگی ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی دیگر جماعتوں کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے