سواد اعظم اہلسنت سے سنی اتحاد کونسل تک

1040532.jpg

پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت میں مذھبی سیاست کئی نشیب و فراز سے گزری ہے اور مذھبی سیاست کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے اندر توڑ پھوڑ سب سے زیادہ جنرل ضیاء الحق دور اور مابعد ضیاء الحق دور میں ہوئی – اور یہ توڑ پھوڑ داخلی سے کہیں زیادہ بیرونی مداخلت کے سبب ہوئی –

سواد اعظم اہلسنت بریلوی سیاست کی نمائندہ سیاسی جماعت جمعیت علمائے پاکستان تھی – اس جماعت نے 70ء کے انتخابات میں پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں سے نمائندگی حاصل کی اور اسے اس زمانے میں جواں سال پرعزم قیادت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی قیادت میں میسر آئی

اس جماعت میں اس مسلک سے تعلق رکھنے والے کئی بڑے نامی گرامی علماء، پیر ، مشائخ شامل تھے جن میں کراچی سے شاہ فرید الحق ، عبدالمصطفی رضوی، ملتان سے سید احمد سعید کاظمی ( حامد سعید کاظمی کے والد) ، سیال شریف سے پیر قمر الدین سیالوی، اوکاڑہ سے مولانا غلام علی اوکاڑوی ، لاہور سے محمود احمد حزب الاحناف والے ، فیصل آباد سے مولانا سردار علی قادری رضوی

اس جماعت میں کافی بڑی تعداد میں وکلاء ، ڈاکٹرز ، انجنئیرز اور تاجر، صنعتکار بھی شامل تھے – یہ بنیادی طور پر مذھبی سنٹر رائٹ کی جماعت تھی – پیپلزپارٹی اور نیپ جو ستر میں سنٹر لیفٹ سیاست کررہے تھے کی یہ جماعت بھی شدید مخالف تھی

اس نے بھی ستر کا انتخاب ملک میں کمیونزم ، سوشلزم ، الحاد اور لا دینیت کو روکنے کے نام پر لڑا تھا – اس کے ساتھ ساتھ یہ جماعت ملک میں جماعت اسلامی کی سیاست اور جمعیت علمائے اسلام کی سیاست کو کانگریس نواز سیاست کہہ کر مسترد کرتی تھی – لیکن وقت کے جبر نے سنٹر رائٹ ، سنٹر لیفٹ کی بہت ساری جماعتوں کو پاکستان نیشنل الائنس -پی این اے میں اکٹھا کردیا جس میں جے یو پی شامل ہی نہیں تھی بلکہ بہت نمایاں تھی – اس جماعت کے ہاں اسلامی نظام کے لیے رائج اصطلاح ‘نظام مصطفٰی ‘ بعد ازاں بھٹو کے خلاف تحریک کا مرکزی "نعرہ ” بھی بن گئی

پی این اے میں مولانا شاہ احمد نورانی واحد سیاست دان تھے جنھوں نے نہ تو جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کی اور نہ ہی انھیں خوش آمدید کہا- ان کے بارے میں آج تک کسی ذریعہ سے یہ بھی پتا نہیں چلا کہ وہ پی این اے کی تحریک کے دوران جی ایچ کیو سے رابطے میں تھےـجے یو پی نے جنرل ضیاء الحق کی بنائی عبوری کابینہ میں شمولیت سے انکار کرکے مارشل لاء اٹھانے کا مطالبہ کیا-
مولانا شاہ احمد نورانی کے جنرل ضیاء الحق کے آگے سرنڈر نہ کرنے اور مارشل لاء کی مخالفت کرنے کا اثر یہ ہوا کہ جنرل ضیاء نے جے یو پی کو توڑنے کا ٹاسک ایجنسیوں کو دیا اور جے یو پی میں شامل پنجاب سے کئی ایک بڑے گدی نشین پیر اور علماء جنرل ضیاء الحق کی حمایت کرنے لگے -ایجنسیوں کی مداخلت کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ 85ء کی غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لینے یا لینے کے سوال پر جے یو پی میں اعلانیہ تقسیم سامنے آگئی

کراچی سے حاجی حنیف طیب ،حیدر آباد سے عثمان کینڈی اور ظہور الحسن بھوپالی، فیصل آباد سے صاحبزادہ فضل کریم ، لاہور سے ڈاکٹر سرفراز نعیمی ، مفتی عبدالقیوم ہزاروی ناظم جامعہ نظامیہ لاہور ایک بڑا حصہ ضیاء الحق کے ساتھ مل گیا اور ان کو  میاں محمد نواز شریف کی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی اور 90ء کی دہائی سے سواد اعظم اہلسنت پاکستان کی پارلیمانی سیاست سے زوال شروع ہوا اور ایک وقت وہ آیا کہ سواد اعظم اہلسنت کے پیر،علماء پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں جانے کے لیے نواز شریف اور ان کی پارٹی کے مرہون منت ہوگئے-

سواد اعظم اہلسنت کی نمائندہ سیاسی جماعت جے یو پی نہ صرف خود کئی حصوں میں تقسیم بلکہ کئی اور نام سے بھی جماعتیں بنیں ( پاکستان سنی تحریک؟ سپاہ مصطفی پاکستان اور پھر پاکستان عوامی تحریک)
نوے کی دہائی میں افغان جہاد میں افغان طالبان کی آمد کے ساتھ جہاد کشمیر پروجیکٹ ، علاقے میں سعودی-ایران پراکسیز کی لڑائی اور اس میں نواز شریف کی آل سعود کے ساتھ زبردست شراکت اور اس تناظر میں دیوبندی عسکریت پسندی کا پھیلاؤ اور ریڈیکل دیوبندی ازم کو ملنے والی سرکاری سرپرستی نے سواد اعظم اہلسنت بریلوی کے اندر مارجنلائزڈ کیے جانے کس تاثر گہرا کیا –

پنجاب میں یہاں تک کہ جو علماء و مشائخ نورانی میاں کو چھوڑ کر نواز شریف کیمپ میں گئے تھے ان میں بھی یہ احساس جڑ پکڑنے لگا کہ نواز شریف ان کی بجائے سپاہ صحابہ، طالبان جیسے ریڈیکل فرقہ پرستوں کی سرپرستی کررہے ہیں-ان میں سے سب سے پہلے نواز شریف کیمپ سے بغاوت صاحبزادہ فضل کریم نے کی اور انھوں نے سنی اتحاد کونسل تشکیل دی – یہ طالبانائزیشن کے خلاف سواد اعظم اہلسنت کی جانب سے پہلا باقاعدہ سیاسی مذھبی محاذ تھا

صاحبزادہ فضل کریم کی وفات کے بعد سنی اتحاد کونسل کے سربراہ ان کے نوجوان بیٹے صاحبزادہ حامد رضا قادری رضوی بنے جنھوں نے مسلم لیگ نواز پر تکفیری فاشزم (جس کی سب سے بڑی علمبردار جماعت ان کے نزدیک سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت/پاکستان راہ حق پارٹی ہے) کے ساتھ روابط اور تکفیری فاشزم کی سرپرستی کے الزامات لگائے- اور وہ آج کل سواد اعظم اہلسنت و جماعت میں روایت پرست مشائخ علماء میں پہلے سیاسی لیڈر ہیں جنھوں نے شیعہ-سنی اتحاد کا نعرہ لگایا اور ان کی قربت مجلس وحدت المسلمین سے بڑھتی چلی گئیں

نواز لیگ اور سپاہ صحابہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک اور رانا ثناء اللہ پر سواد اعظم کی مساجد و مزارات پر حملہ آوروں کی پشت پناہی کے الزامات کی بنیاد پر حامد رضا اور ان کے ساتھیوں کے اختلافات نواز لیگ سے شدید تر ہوگئے – شہباز شریف کی وزرات اعلی کے دور میں پنجاب میں حامد رضا پر جھنگ میں قاتلانہ حملہ ہوا- ان کے اور ان کے ساتھیوں پر مقدمات درج ہوئے اور پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن نے بھی سواد اعظم اہلسنت و جماعت کے ووٹرز کی بڑی تعداد کو نواز لیگ سے برگشتہ کردیا – یہیں سے حامد رضا کی پاکستان تحریک انصاف سے قربت اور روابط شروع ہوئے –

پاکستان میں سواد اعظم اہلسنت کے سنٹر رائٹ سیاسی تنظیموں کی نواز شریف سے دوری اور پی ٹی آئی سے قربت کو سمجھنے کے لیے اس سارے پس منظر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے -نواز لیگ اور شریف برادران کے تکفیری فاشزم کے ایک طاقتور عسکریت پسند سیکشن جن میں سپاہ صحابہ /اہلسنت والجماعت دیوبندی/ لشکر جھنگوی/تحریک طالبان پاکستان وغیرہ شامل ہیں سے سٹریٹجک الائنس سواد اعظم اہل سنت اور شیعہ مسلمانوں کے سنٹر رائٹ ووٹ اور قیادت کو نواز لیگ سے دور کیا اور تحریک انصاف کے ساتھ الائنس بنوانے کی طرف دھکیلا –

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے