’آپ کو بتانا تھا کہ کل ہمیں ہمارے بچوں کے ساتھ مار دیا جائے گا‘

1d51f890-9677-11ee-9c64-3fdaf766c7ea.jpg

غزہ کے شاعر اور استاد رفعت العزیز نے اپنی ہلاکت سے چند دن پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم کچھ بھی کہہ لیں، کچھ بھی کر لیں، اسرائیلی ہمیں مار دیں گے۔‘

اُس کے بعد کہا تھا کہ ’غزہ میں نہ پانی ہے نہ کہیں بھاگنے کا کوئی راستہ۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ہم اجتماعی خود کشی کر لیں لیکن ہم وہ نہیں کریں گے۔ میں ایک استاد ہوں میرے گھر میں لکھنے والا ایک مارکر ہے۔ جب اسرائیلی میرے گھر کا دروازہ توڑ کر مجھے اور میرے خاندان کو مارنے آئیں گے تو میں وہی مارکر ان پر دے ماروں گا اور غزہ کا ہر شہری یہی کرے گا۔‘

رفعت کا مار کر جس سے وہ غزہ کی یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتے تھے ،اسرائیلی بم کا مقابلہ نہ کر پایا اور وہ اپنی بہن اور چار بچوں سمیت ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق انھیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ ایسی باتیں کرتے تھے جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔۔
چونکہ انگریزی ادب کے استاد تھے باتیں بھی شستہ انگریزی میں کرتے تھے۔ حماس کی مزمت سے انکاری تھے اس لیے مغربی میڈیا نے ان کی ہلاکت کے بعد انھیں متازع شاعر اور استاد لکھا۔

غزہ پر وحشانہ بمباری کے تناظر میں ایک عربی عالم نے گزشتہ ہفتے لکھا ہے کہ انگریزوں سے انگریزی میں بات کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنی جیل کے گارڈ کے ہاتھوں میں اپنے قید خانے کی چابیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

گذشتہ صدی کی آخری دہائی میں زیادہ تر دنیا نے روانڈا کا نام پہلی دفعہ سنا جب وہاں سول وار میں لاکھوں شہری ہلاک کر دیے گئے۔

چونکہ اس لڑائی میں مرنے والے گورے نہیں تھے اس لیے خبر مغربی میڈیا میں اس وقت ہی آئی جب قتل عام شروع ہو چکا تھا۔ انٹرنیٹ بھی اتنا عام نہیں تھا، موبائل فون نئے نئے تھے، ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے انبار والی تصویریں آنا شروع ہوئیں تو مغربی دنیا نے تاسف میں سر ہلایا اور ان غیر تہذیب یافتہ قبائلیوں کی وحشت و بربریت کی مذمت کی۔

روانڈا کے قتل عام کے بعد ایک صحافی نے اپنی زمینی رپورٹنگ کو بنیاد بنا کر ایک کتاب لکھی جس میں بتایا گیا کہ قتل عام کا ماحول کیسے بنایا گیا، کے بنایا گیا، کیسے مہینوں تک مقامی ریڈیو سٹیشنوں اور اخباروں میں پروپیگنڈا کیا گیا اور جب قتل عام شروع ہوا تو مارے جانے والوں کو پہلے سے پتہ تھا کہ اگلی باری ان کی ہے۔

انھی انٹرویوز میں سے مصنف نے کتاب کا عنوان نکالا۔ آپ کو بتانا ہے کہ کل ہم اپنے بچوں سمیت مار دیے جائیں گے، مہذب دنیا نے شاید یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے دی کہ روانڈا مغربی طاقتوں کے مراکز سے بہت دور تھا شاید اگر وقت پر پتہ چلتا تو ہم سب نہیں تو کچھ جانیں تو بچا ہی سکتے تھے۔
روانڈا کے قتل عام کو 30 سال ہو چکے ہیں اس پر کئی کتابیں، کئی پی ایچ ڈیاں اور کئی ڈاکومنٹریاں بھی بن چکی ہیں لیکن شاید اب بھی کم لوگوں کو ہی ’ہوتوز اور توتسی تنازع‘ کی سمجھ آئی ہوگی۔

اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اور فلسطینیوں کی مزاحمت ، لیکن چونکہ آج کل ادارت گائیڈ لائنیں بڑی سخت ہیں اس لیے آپ چاہیں تو اسے اسرائیل فلسطین تنازع بھی کہہ سکتے ہیں۔

شاید دنیا میں سب سے معروف تنازع ہے اور اگر کوئی اس تنازعے سے واقف نہیں بھی تھا تو پچھلے دو مہینوں سے اپنے موبائل فون پر ایک قتل عام لائیو دیکھ سکتا ہے اور غزہ سے صرف ایک ہی پیغام آتا ہے کہ ہم پر آپکو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ابھی کسی وقت ہمیں اور ہمارے بچوں کو مار دیا جائے گا۔

یہ ہے میری آخری فوٹو، یہ ہے میرا آخری ٹویٹ، ایک نظم سن لو اور رفعت کے الفاظ میں کہ میری اسرائیل کو دھمکی سن کر بھی ریکارڈ کر لو کہ جب اسرائیلی فوجی میرے گھر میں گُھسیں گے تو میں انھیں اپنا استاد والد مار کر دے ماروں گا۔

عالمی قانون نام کی دنیا میں کوئی چیز موجود نہیں رہی، عالمی خبریں ایک مضحکہ خیز افواہ ہے۔

مغربی میڈیا نے دنیا کو یہ جھانسہ دے رکھا تھا کہ جب ہماری حکومتیں بھی ابو غریب کریں گی تو ہم اس کو شرمسار کریں گے۔ کیونکہ ہماری پڑھی لکھی مغربی عوام، آئی فون اور انسانی حقوق ایجاد کرنے والی قومیں اپنے فون پر ’ہم اور ہمارے بچے مار دیے جائیں گے‘ والا پیغام اور اس پیغام کو پہنچانے والے دھاڑتے بموں اور سیٹیاں بجاتے میزائل، باپ کے ہاتھ میں بچی (جسے وہ ایسے تیار کر رہا ہے جیسے قبر کے بجائے سکول بھیجنے والا ہو)، میری روح کی روح مغربی اور مشرقی طاقتیں غزہ سے ہر لمحے آنے والے پیغام کا جواب اس طرح دے رہی ہیں کہ قتل عام کرنے والے کا ہاتھ تھام کر پوچھ رہی ہیں کہ آپکو کوئی تنگی تو نہیں؟ اور بم چاہیں یہ لیں۔

بچوں کو مارنے کے ہمارے ریکارڈ توڑنے پر خرچہ بھی ہوا ہو گا تو کتنے بلین اور یہ جو غزہ میں انگریزی پڑھانے والے استاد اور شاعر کو مارا ہے تو ہم دنیا کو بتا دیں گے کہ وہ تو تھا ہی متنازع۔

استاد رفعت کے انگریزی ادب پڑھانے کے شوق اور اپنے مار کر سے اسرائیل کو دھمکی دینے والی ادا سے مجھے ایک پاکستانی انگریزی ادب کا استاد یاد آیا جس نے اپنی کلاس میں کوئی متنازع بات کہہ دی تھی یا اپنے مارکر سے لکھ دی تھی۔

وہ 10 سال سے جیل میں ہیں۔ ان کے خیر خواہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خبروں میں ان کا نام زیادہ نہ آئے تو ان کے زندہ بچنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

جنوبی پاکستان کی ایک جیل میں قید تنہائی میں ہیں، کسی سیاستدان کسی جج، کسی صحافی میں جرات بھی نہیں ہے کہ اس کا جرم پوچھ سکے۔

مجھے یقین ہے جب ہمارے انگریزی ادب کے استاد کو استاد رفعت کی خبر پہنچے گی تو جنوبی پنجاب کی ایک جیل سے میں قید تنہائی والے سیل سے ایک دعا نکلے گی۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے