◷

تیل کی عالمی منڈی میں توازن

26 اکتوبر 2026

آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود تیل کی عالمی منڈی کو معمول پر آنے میں دو سال لگ سکتے ہیں، سابق قطری وزیر

قطر کے سابق وزیر توانائی محمد بن صالح السادہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول بھی دی جائے تو تیل کی عالمی منڈی میں طلب اور رسد کا توازن بحال ہونے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں۔

قطر کے سابق وزیر توانائی محمد بن صالح السادہ نے کہا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی کو طلب اور رسد کے درمیان توازن بحال کرنے کے لیے کم از کم دو سال درکار ہوں گے، چاہے آبنائے ہرمز آج ہی کھول دی جائے۔

العربی الجدید اخبار کی رپورٹ کے مطابق، عبداللہ بن حمد العطیہ انرجی انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن السادہ نے دوحہ میں عالمی سرمایہ کاری فورم کے دوران ایک مذاکرے میں کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب پوری کرنے کے لیے یومیہ تقریباً 30 لاکھ بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافی پیداوار میں سے یومیہ 10 لاکھ بیرل تیل ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے درکار ہوگا جو گزشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

تیل کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹیں

قطر کے سابق وزیر توانائی نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں اصل رکاوٹ سرمایہ کاری، تیل نکالنے، اس کی تیاری اور ریفائننگ کے مراحل میں ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کی تیل کی صنعت میں یہ شعبے گزشتہ 90 برس سے مستحکم رہے ہیں اور ان میں اس نوعیت کی کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہیں آئی تھی۔

السادہ کے مطابق، آبنائے ہرمز اور باب المندب اب تیل اور گیس سمیت اہم اشیا کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گزرگاہوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات صرف خلیج فارس کے عرب ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا ان سے متاثر ہوگی۔

قطر کی گیس برآمدات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مائع قدرتی گیس پیدا اور برآمد کرتا رہا ہے اور اس دوران اس کی برآمدی کھیپوں کی ترسیل میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ تاہم، اب سمندری گزرگاہیں ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

السادہ نے آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر یہ مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو پوری دنیا کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خلیجی پیداوار میں کمی

السادہ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خام تیل کی عالمی قیمت برینٹ دوبارہ 114 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق، خلیج فارس کے عرب ممالک میں تیل اور گیس کی پیداوار فروری میں یومیہ 3 کروڑ 30 لاکھ بیرل سے کم ہو کر مئی میں تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل رہ گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ رواں سال قطر کی معیشت میں 15.6 فیصد سکڑاؤ آئے گا۔

ہنگامی ذخائر میں کمی اور بحران کے بعد نئی طلب

گزشتہ چند ماہ کے دوران تیل استعمال کرنے والے ممالک نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تزویراتی ذخائر سے تیل نکالنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) بھی متعدد مرتبہ ہنگامی ذخائر سے تیل نکالنے کا اعلان کر چکی ہے۔

یہی وہ ذخائر ہیں جنہیں السادہ کے مطابق بحران ختم ہونے کے بعد دوبارہ بھرنا ہوگا۔ اس عمل سے بحران میں کمی آنے کے بعد بھی تیل کی طلب میں نیا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو معمول پر آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ محمد بن صالح السادہ 2011ء سے 2018ء تک قطر کے وزیر توانائی و صنعت کے عہدے پر فائز رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے