◷

حزب اللہ لبنان کو ختم کرنے میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی

16 اکتوبر 2026


لبنان کے ڈیلی الاخبار نے فاش کیا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک دستاویز فراھم کی تھی جس کا عنوان "کس طرح حزب اللہ سے جان چھڑائی جائے” تھا۔ یہ ایک جامع منصوبہ تھا جس کا مقصد لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم کر دینا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اسلامی مزاحمت کے حامیوں کو شدید اقتصادی پابندیوں اور روزمرہ سہولیات سے محروم کر کے ان پر "زیادہ سے زیادہ دباو” ڈالنا تھا جبکہ دوسری طرف لبنان حکومت کو مختلف اقتصادی اور سماجی مراعات دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے بانیوں کا اصل مقصد حزب اللہ لبنان اور اس کے حامی طبقے کے درمیان تعلق ختم کر دینا تھا تاکہ اسلامی مزاحمت عوامی حمایت کھو بیٹھے اور عوام میں اس کی جڑیں کمزور پڑ جائیں۔ امریکی صدر کو فراہم کی گئی دستاویز میں اس مقصد کے حصول کے لیے کئی اقدامات کی پیشکش کی گئی تھی جن میں لبنان کے جنوبی علاقوں کے شہریوں پر خاص توجہ دینا اور گھروں کی تعمیر نو میں ان کی مدد کرنا، ان کے نقصانات کا ازالہ کرنا اور انہیں سہولیات فراہم کرنا، ان کے بینک اکاونٹس بحال کرنا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ وہ ان اقدامات کے ذریعے لبنان کی شیعہ آبادی کو حزب اللہ لبنان سے دور کر سکتا ہے اور انہیں ویسی ہی سہولیات فراہم کر کے اسلامی مزاحمتی تنظیم سے بے نیاز کر سکتا ہے۔

اس دستاویز میں مزید اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے حامیوں کی کسی قیمت پر بھی توہین نہ کی جائے اور انہیں انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بھی نہ بنایا جائے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد اس خام خیالی پر استوار ہے کہ مختلف جنگوں اور بحرانوں کے نتیجے میں اسلامی مزاحمت کا ڈھانچہ کمزور پڑ چکا ہے اور اگر لبنانی حکومت جنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کے قابل ہو جائے اور وہاں کے شہریوں کو ضروری سہولیات فراہم کر پائے تو ممکن ہے حزب اللہ لبنان اپنے سیاسی موقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائے۔ امریکہ اس سے پہلے ملتی جلتی حکمت عملی دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں آزما چکا ہے جن میں جاپان، جرمنی اور شمالی آئرلینڈ شامل ہیں۔ اب امریکی منصوبہ ساز اپنے ماضی کے تجربات لبنان میں آزمانا چاہتے ہیں جبکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ان معاشروں میں اور لبنانی معاشرے میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر کو فراہم کی گئی دستاویز میں اس فرق کا بھی اعتراف کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سیاسی، سماجی اور تاریخی فرق کے باعث جرمنی، جاپان اور شمالی آئرلینڈ کے تجربات کو من و عن لبنان پر لاگو کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود عمل کے مرحلے میں اس فرق کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور وہی پرانے نسخے ایک پھر آزمائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس دستاویز میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے وہ دراصل فلسطینی محقق منیر العکش کے افکار سے ماخوذ ہے جنہوں نے لبنان کو انڈیا ماڈل یا فلسطین ماڈل جیسا بنانے کی پیشکش کی ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد ایک معاشرے کے ثقافتی اور تاریخی تشخص کے خاتمے پر استوار ہے اور اس کی ایک مثال ماضی میں سرخ پوست معاشرے پر ڈھائے جانے والے مظالم ہیں۔ سرخ پوست معاشرے کا تشخص پوری طرح مسخ کر دیا گیا اور ان کی تاریخ بھی مٹا دی گئی ہے جس کے باعث وہ استعماری ثقافت میں ڈھل گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نئی نسلوں کی یوں تربیت کرنا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے حقیقی تشخص کا انکار کر دیں اور استعماری ثقافت میں ڈھل جائیں۔ نئی نسلوں کی ترجیحات تبدیل ہو جائیں اور وہ اقتصادی حالات بہتر بنانے اور روزمرہ زندگی میں فلاح و بہبود پیدا کرنے کو اپنے قومی مفادات اور مطالبات پر ترجیح دینے لگیں۔ امریکی صدر کو فراہم کی گئی دستاویز میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی صیہونی محققین نے حزب اللہ لبنان کو ختم کرنے کے لیے جو منصوبے تیار کیے اور ان پر عملدرآمد کی کوشش کی گئی اس سے ملتے جلتے تھے۔ لیکن یہ اقدامات اس سے پہلے فلسطین میں شکست کھا چکے ہیں اور مختلف فلسطینی علاقوں میں فلاح و بہبود بہتر بنا کر اسلامی مزاحمت ختم نہیں کر پائے۔

2009ء میں اسرائیل کی داخلہ سیکورٹی سے متعلق ایک تحقیقاتی ادارے نے بھی ایسی ہی رپورٹ جاری کی تھی جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مغربی کنارے میں اقتصادی ترقی کا لازمی نتیجہ فلسطینیوں کے عقائد میں تبدیلی اور مسلح جدوجہد چھوڑ دینے کی صورت میں ظاہر نہیں ہو گا۔ ایک صیہونی محقق دانی برکوویچ نے بھی 2007ء میں ایک کتاب شائع کی تھی جس میں اسلامی مزاحمت کی عوامی حمایت کمزور کرنے کے لیے مختلف مشورے دیے گئے تھے۔ لبنان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ علاقائی اور عالمی حمایت کے ذریعے لبنان کے حکومتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ حکومت عوام میں اپنا اثرورسوخ بڑھا سکے اور دھیرے دھیرے حزب اللہ لبنان کا اثرورسوخ ختم کر کے اس کی عوامی حمایت ختم کی جا سکے۔ اسی طرح اس کتاب میں حزب اللہ لبنان کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کر کے اس کے حامیوں کو اس سے دور کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔ تقریباً دو عشرے گزر جانے کے بعد بروکینگز تحقیقاتی مرکز میں امریکہ کے سابق سفارت کار جفری ویل مین نے جون 2026ء میں ایک اور تحقیق پیش کی جس میں ایک بار پھر حزب اللہ لبنان کے سیاسی اور سماجی اثرورسوخ کو ختم کرنے کے لیے کئی منصوبے پیش کیے گئے تھے۔ لیکن ماضی کے تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطین اور لبنان میں عوام کے اندر پائے جانے والا جذبہ محض اقتصادی مفادات کی حد تک نہیں ہے اور وہ اقتصادی ترقی اور فلاح و بہبود کے عوض اسلامی مزاحمت چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ اس کا منہ بولتا ثبوت فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کا وجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے