◷

پائيدار دفاعی روک تھام

15 اکتوبر 2026

پائيدار دفاعی روک تھام کے لیے جنگ اور مذاکرات دونوں ضروری ہیں: اسپیکر محمد باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جنگ اور مذاکرات دونوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائيدار دفاعی روک تھام کے لیے صرف جنگ یا صرف مذاکرات کافی نہیں۔

ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بیک وقت جنگ اور مذاکرات کے لیے تیار رہنے کا مقصد نہ تو لامتناہی جنگ ہے اور نہ ہی مسلسل مذاکرات، بلکہ دشمن کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔

قالیباف نے کہا کہ اگر دشمن ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کرے تو اسے شکست قبول کرتے ہوئے مراعات دینا ہوں گی، تاکہ ایران اپنی پائيدار دفاعی روک تھام کی صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے طاقتور بن سکے۔

محمد باقر قالیباف نے بدھ کی شب عوام کے ساتھ اپنے دوسرے ویڈیو مکالمے میں کہا کہ ایرانی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ دشمن دوبارہ ایران پر حملہ نہ کرے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کے ساتھ مذاکرات، کسی معاہدے پر دستخط اور اس کی ضمانتوں کے باوجود یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا اور اپنی دھمکیوں اور اقدامات سے دست بردار ہو جائے گا؟

قالیباف نے کہا کہ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے، کیونکہ امریکہ نے اپنے رویے اور حالیہ اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ وہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور معاہدوں اور ان پر کیے گئے دستخطوں کا پابند نہیں رہتا۔

صرف جنگ یا صرف مذاکرات کافی نہیں

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ صرف جنگ کرکے کشیدگی بڑھانے اور امریکہ کو تھکا دینے سے دشمن دوبارہ حملے اور دھمکیوں سے باز آجائے گا یا اپنے عزائم سے دست بردار ہو جائے گا، تو یہ سوچ بھی درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہمارے شہید رہبر آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا تھا، دشمن ایران کو ہڑپ کرنے کے ارادے سے آیا ہے۔ امریکہ خلیج فارس میں اپنے مفادات کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس خطے میں موجود رہنے کی بات کرتا ہے۔

قالیباف نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے مفادات اس خطے کے عوام، قوموں اور حکومتوں سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ایران سے دشمنی بہت گہری ہے اور وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے طاقت اور دباؤ کی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ ان کے بقول، اس کی سامراجی ذہنیت اور دھونس جمانے کی لت اسے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید طمع پر آمادہ کرتی ہے۔

 پائیدار بازدارندگی کیسے قائم ہوگی؟

قالیباف نے کہا کہ اس صورت حال کا حل یہ ہے کہ ایران جنگ کے لیے بھی تیار رہے، ضرورت پڑنے پر جنگ بھی کرے اور مذاکرات بھی جاری رکھے، تاکہ پائیدار دفاعی روک قائم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی طاقت اس حد تک بڑھانا ہوگی کہ امریکہ، دنیا اور خطے کے دیگر ممالک یہ سمجھ لیں کہ وہ اپنی منشا مسلط نہیں کر سکتے۔

ان کے مطابق، پائیدار بازدارندگی اسی وقت قائم ہوگی جب ایران اپنی طاقت کا عملی ثبوت دے اور خطے و دنیا کے تمام فریقوں کو یہ باور کرا دے کہ ایران پر حملہ کرنا آسان نہیں۔

قالیباف نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے صدام حسین کی بعثی حکومت کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی اور مشکلات برداشت کیں، لیکن اس کے بعد کئی دہائیوں تک کسی کو ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

دشمن کو ایران کی طاقت کا یقین دلانا ہوگا

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ کسی کو بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی کے ذہن میں ایسا خیال آئے تو اسے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے، جس کے ساتھ ٹکر لینا آسان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن نے غلط اندازہ لگایا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے، لیکن جنگ میں ایرانی قوم کی تاریخی مزاحمت دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے۔

قالیباف کے مطابق، دشمن کو اب بھی کچھ امیدیں وابستہ ہیں، جنہیں ایران کو مزید طاقتور بنا کر ختم کرنا ہوگا، تاکہ پائیدار دفاعی روک تھام حاصل کی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے